رسائی کے لنکس

سندھ میں مزید دیہات زیرِ آب، سیلابی ریلوں میں شدت

  • عمیر ریاض

سندھ میں پاکستان کی تاریخ کے بد ترین سیلاب کے باعث صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے، جبکہ کئی حفاظتی بند بہہ جانے اور نہروں میں شگافوں کے باعث بیسیوں دیہات اور وسیع زرعی اراضی زیر آب آگئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق صوبے میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

دریائےسندھ میں گڈو اورسکھر کے مقام پرانتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گڈو بیراج سے پیر کی شام ساڑھے گیارہ لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزر رہا تھا، جبکہ سکھر بیراج پر پانی کا بہاؤ گی11 لاکھ 30 ہزار کیوسک سے تجاوز کرگیا ہے، جو سیلاب کے بارے میں اس سے قبل لگائے جانے والے اندازوں سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک ، جبکہ معمول کے بہاؤ سے دس گنا زیادہ ہے۔

صوبائی محکمہ آبپاشی کے مطابق ملک کے بالائی حصوں میں جاری مسلسل بارشوں کے سبب تاحال دریائے جہلم اور چناب میں سیلابی کیفیت برقرار ہے اور پنجند کے مقام سے دریائے سندھ میں سیلابی پانی کی آمد مسلسل جاری ہے۔ جس کےباعث گڈو اور سکھر بیراج پر اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دورا ن پانی کی سطح میں متوقع مزید اضافے سے صورتحال خطرناک ہونے کا اندیشہ ہے۔ ڈی سی او سکھر انعام اللہ دھاریجو کے مطابق سکھر بیراج کے تمام دروازے کھول دیے گئے ہیں، تاہم اس کے باوجود بیراج پر سیلابی ریلے کا شدید دباؤ ہے۔

ضلع سکھر کی تحصیل روہڑی کے ایک گاؤں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلے سے چھ افراد کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جن میں سے دو افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ ڈی سی او کے مطابق بچل شاہ میانی کے نزدیک بند میں پڑنے والے شگاف کے باعث سیلابی پانی سکھر ایئرپورٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جبکہ دریا شہر کی حفاظتی دیوار سے محض ڈھائی انچ نیچے بہہ رہا ہے۔

صوبائی محکمہ اطلاعات کے مطابق غوث پور، گڈو اور بی ایس فیڈر میں پڑنے والے شگافوں اور بچل شاہ میانی اور سندھوجا کے حفاظتی بند ٹوٹنے سے مزید 70 سے زائد دیہات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی زیرِآب آگئی ہے۔ پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث قادر پور لوپ حفاظتی بند، نصرت لوپ بند ، لاڑکانہ کے عاقل آگانی حفاظتی بند اور گھوٹکی کے قریب سندرانی بند میں کٹاؤ پڑ رہا ہے اور بند ٹوٹنے کے خطرے کے پیشِ نظر قریبی علاقوں کو خالی کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے مذکورہ تمام بند ریڈ زون قرار دیے جانے کے بعد سول انتظامیہ اور فوجی جوان ان کی 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں۔

صوبائی محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو بیراج سے نکلنے والی بیگاری فیڈر میں جیکب آباد کے قریب شگاف پڑنے سے سندھ بلوچستان شاہراہ زیرِ آب آگئی ہے، جس کے باعث دونوں صوبوں کے مابین ٹریفک معطل ہے۔ جب کہ قریب واقع ٹھل شہر کے زیرِآب آنے کے خدشے کے پیشِ نظر آبادی کو شہر سے منتقل کیا جارہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کندھکوٹ شہر کو سیلابی ریلے سےبچانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

حکام کے مطابق پیر کی صبح بیگاری کینال میں تین مقامات پر پڑنے والے شگاف کےباعث شکارپور ضلع کے پندرہ سے زائد دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ جبکہ جیکب آباد-شکارپور کے درمیان ریلوے ٹریک اور قومی شاہراہ بھی سیلابی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، اور مذکورہ روٹس پر روڈ اور ریلوے ٹریفک معطل ہے۔ سیلابی پانی غوث پور اور کرم پور شہر میں داخل ہونے کے بعد تیزی سےشکارپور اور خانپور کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس سے گولوڈارو کا کچے کا جنگل، جہان واہ اور رحیم آباد کے قصبے بھی زیرِ آب آسکتے ہیں۔

شکارپور کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق بیگاری کینال میں پڑنے والے تین میں سے دو شگافوں کو مقامی دیہاتیوں اور رضاکاروں کی مدد سے پر کیا جاچکا ہے، جبکہ تیسرے شگاف سے پانی کا اخراج روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ضلع شکارپور کے ڈی سی او ڈاکٹر سعید احمد منگنیجو نے صحافیوں کو بتایا کہ سیلابی صورتحال کے باعث ضلع بھر سے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے، جبکہ ضلع میں ہنگامی حالت نافذ ہے۔

ڈی سی او ضلع نوشہروفیروز کے مطابق ضلع میں کچے کا نوے فیصد علاقہ زیرِ آب آ چکا ہے جبکہ ہزاروں افراد کی نقل مکانی جاری ہے۔

اتوار کے روز دریائے سندھ میں غوث پور کے قریب توڑی بند میں پڑنے والے شگاف سے بہنے والا سیلابی ریلہ کی شدت سے بی ایس فیڈر میں چار مقامات پر شگاف پڑنے کے باعث نہر میں طغیانی کی کیفیت ہے۔ توڑی بند کے شگاف کے باعث انڈس ہائی وے کا ایک بڑا حصہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق توڑی بند کے شگاف سے اخراج کے باعث دادو، لاڑکانہ، حبیب کوٹ سے شکارپور اور جیکب آباد سے پنجاب جانے والی ریلوے لائن کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز خیر محمد کلوڑ کا کہنا ہے کہ صوبہ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاک فوج کےایک اعلامیہ کے مطابق فوج کے جوانوں نے اب تک سندھ کے مختلف علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے 70 ہزار سے زیادہ دافراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایاہے۔ جبکہ فوج کے انجینئرز بھی سول انتظامیہ کے ساتھ چوبیس گھنٹے گڈو اور سکھر بیراج کی نگرانی پہ مامور ہیں۔

سندھ آبادگار بورڈ کے صدر عبدالمجید نظامانی کے مطابق صوبے میں سیلاب سے 20 فیصد زرعی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

حیدرآباد میں ایمرجنسی

صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں انتظامیہ کی جانب سے کل بروز منگل سے ایمرجنسی نافذکردی جائے گی۔ سرکاری اعلامیہ کے مطابق ضلع حیدرآباد سے ملحقہ کوٹری بیراج میں پانی کا بہاؤ پیر کی شب تین لاکھ کیوسک سے تجاوز کرجانے کے امکان کے پیشِ نظر منگل سے ضلع بھر میں سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر ہنگامی حالات کا نفاذ ہوگا۔

محکمہ موسمیات کی پیر کے روز جاری ہونے والی فلڈ وارننگ کے مطابق بالائی دریائے سندھ میں پانی کی بلند سطح کے باعث اب کوٹری بیراج سے گزرنے والے سیلابی ریلے کی شدت آٹھ سے نو لاکھ کیوسک تک ہوگی جو بدھ کے روز بیراج سے گزرے گا۔ پیر سے منگل کے دوران گزرنے والے ابتدائی سیلابی ریلے کی شدت چھ سے آٹھ لاکھ کیوسک رہنے کا امکان ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق بیراج پر سیلاب کی شدت آئندہ چھ سے آٹھ روز تک برقرار رہے گی۔

صوبائی حکومت نے دریائے سندھ کے کناروں کے ساتھ واقع حیدرآباد شہر کے گنجان آبادعلاقوں لطیف آباد، کوٹری اور قاسم آباد کے کچھ علاقوں کے مکینوں سے نقل مکانی کی اپیل کی ہے۔ ضلع سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزراء زاہد حسین بھرگڑی اور علی نواز شاہ رضوی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے مذکورہ علاقوں کے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیشِ نظر رضاکارانہ طور پر یہ علاقے خالی کردیں۔

امداد کے وعدے

سندھ کے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ نے صوبہ میں سیلاب سے متاثرین کی امداد کے لیے 10 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ پیر کے روز سکھر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صوبائی وزراء اور اراکینِ سندھ اسمبلی کی جانب سے ایک ماہ کی تنخواہ صوبے کے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے قائم فنڈ میں دینے کا اعلان کیا۔

مزید بارشیں

اندرونِ سندھ نئے مون سون سسٹم کے تحت شروع ہونے والی بارشوں کا سلسلہ پیر کے روزبھی جاری رہا جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کے علاوہ سیلابی ریلوں کے سطح بھی بلند ہونے کا اندیشہ ہے۔ اتوار کی شام سے شروع ہونے والی طوفانی بارش کا سلسلہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں وقفے وقفے سے جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ مزید 24 گھنٹے جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث صوبائی صدر مقام کراچی کے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے اور دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ محکمے کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بارش صوبہ کے ساحلی شہر ٹھٹہ میں 107 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ بدین میں 102، کراچی میں 44 جبکہ حیدرآباد میں 26 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

XS
SM
MD
LG