رسائی کے لنکس

دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے 'سپر فلڈ' کی پیش گوئی کے مطابق حفاظتی انتظامات کیے تھے لیکن اس وقت سیلاب کی صورتحال کسی بڑے خطرے کو ظاہر نہیں کر رہی۔

رواں ماہ کے اوائل میں آنے والا سیلاب اس وقت سندھ کے علاقوں سے گزر رہا ہے جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار چوکس بیٹھے ہیں۔

اس وقت سیلابی ریلا گدو بیراج سے گزر رہا ہے اور حکام کے مطابق اس کی مقدار تین لاکھ 66 ہزار کیوسک کے لگ بھگ ہے۔

سندھ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل سلمان شاہ نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلابی گزرگاہ کے چھ مختلف اضلاع سے 68 ہزار سے زائد افرد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور جلد ہی ان کی اپنے گھروں کو واپسی بھی شروع ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مختلف مقامات پر حفاظتی بندوں میں شگاف کی وجہ سے سندھ میں سیلابی ریلے کی شدت خاصی کم ہو چکی ہے اور یہاں اس سے تباہی کا امکان خاصا کم ہے۔

"ہم نے بند کی حفاظت کی تیاری کر لی تھی یہ سپر فلڈ کے حساب سے کی گئی تھی اور جو اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ سات لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے تو اس کے حساب سے یہ تیاری کی گئی تھی، ابھی بھی ہم الرٹ ہیں، تمام انتظامیہ کے لوگ بھی۔"

سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے مرکز کے مطابق اس وقت دریائے سندھ میں گدو بیراج کے مقام پر درمیانے جب کہ سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں یہاں پانی کی سطح بلند ہونے کا بتایا گیا ہے۔

سندھ میں داخل ہونے سے قبل یہ سیلاب پنجاب کے خصوصاً مشرقی اور جنوبی اضلاع میں قابل ذکر جانی و مالی نقصان کا سبب بنا۔

پنجاب میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 249 بتائی گئی ہے جب کہ سینکڑوں دیہات زیر آب آنے کی وجہ سے وہاں املاک اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا اور مال مویشی کا بھی نقصان ہوا۔

پنجاب کے متاثرہ اضلاع میں حکام نقصانات کا اندازہ لگا رہے ہیں تاکہ جلد لوگوں کی بحالی اور املاک کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جاسکے۔

ادھر جمعہ کو وزیراعظم نواز شریف نے سکھر کا دورہ کیا جہاں حکام انھیں سیلاب کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے متلعق آگاہ کیا۔

XS
SM
MD
LG