رسائی کے لنکس

سندھ: شکار پور میں امام بارگاہ میں بم دھماکا، 58 افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شکار پور کے ڈپٹی کمشنر ہادی بخش زرداری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 30 سے شدید زائد زخمیوں کو سکھر اور لاڑکانہ کے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے

پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں جمعہ کو ایک بم دھماکے میں کم ازکم 58 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

لکھی در نامی علاقے میں یہ دھماکا ایک امام بارگاہ کے اندر ہی ہوا، جہاں عینی شاہدین کے مطابق نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے لگ بھگ تین سو افراد موجود تھے۔

مقامی حکام کے مطابق دھماکے سے تقریباً 30 افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جب کہ باقی نے مختلف اسپتالوں میں دم توڑا۔

شکار پور کے ڈپٹی کمشنر ہادی بخش زرداری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 30 سے زائد زخمیوں کو سکھر اور لاڑکانہ کے اسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے جب کہ پولیس جائے وقوع سے شواہد جمع کر کے تفتیش شروع کر چکی ہے۔

دھماکے سے مسجد کی چھپ منہدم ہو گئی جب کہ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

فوری طور پر علاقہ مکینوں نے جائے وقوع سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جس کے بعد امدادی ٹیمیں اور پولیس بھی یہاں پہنچ گئی۔

ڈپٹی کمشنر ہادی بخش زرداری نے بتایا کہ فی الوقت بم دھماکے کی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

’’یہ تو اب بم ناکارہ بنانے والے ہی بتائی گے۔ زخمیوں کو چَھرے لگے ہوئے تھے، تین لاشیں ایسی بھی پڑی ہوئی تھیں جن میں کسی ایک کا سر ہے تو کسی کے صرف بازو پوری طرح جسم خراب ہو چکا ہے۔‘‘

تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن ملک کے مختلف حصوں میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں اور امام بارگاہوں پر ہونے والے ہلاکت خیز حملوں کا الزام سنی انتہا پسندوں پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب حکومت ملک سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل کے تحت سرگرمیاں تیز کر چکی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف جمعہ ہی کو کراچی پہنچے تھے جہاں انھوں نے ملک کے اس اقتصادی مرکز سمیت صوبہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی فریقین کو مل کر کام کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے شکار پور بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ پاکستان سے آخری دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG