رسائی کے لنکس

قوم پرستوں کی اپیل پر سندھ میں جزوی ہڑتال، پی پی پی کیلئے ایک اور امتحان


قوم پرستوں کی اپیل پر سندھ میں جزوی ہڑتال، پی پی پی کیلئے ایک اور امتحان

قوم پرستوں کی اپیل پر سندھ میں جزوی ہڑتال، پی پی پی کیلئے ایک اور امتحان

سندھ میں کمشنری نظام کے خاتمے اور ضلعی حکومتوں کے نظام کی بحالی کے خلاف پیر کو قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر صوبے کے مختلف شہروں میں جزوی ہڑتال رہی اور کاروباری مراکز بند رہے ۔ادھر ایم کیو ایم کو منانے کے بعد بھی حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کو سکون کا سانس نصیب نہیں ہو سکا اورحلیف جماعت عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) نے اسے ایک اور امتحان میں ڈال دیا ۔

ہفتہ کو ایم کیو ایم کے مطالبے پر پیپلزپارٹی کی جانب سے کراچی اور حیدر آباد میں ضلعی حکومتوں کی بحالی اور صوبے کے دیگر اضلاع میں کمشنری نظام اور 1979 والا بلدیاتی نظام بحال رکھنے کے فیصلے پر سندھ کی قوم پرست جماعتوں اور عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا اور شدید احتجاج کے بعد صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر اتوار اور پیر کی درمیانی شب گورنر سندھ کی جانب سے دو آرڈیننس جاری کیے گئے جس کے تحت سابق صدر پرویز مشرف کا متعارف کردارہ مقامی حکومتوں کا نظام سندھ بھر میں دوبارہ نافذ ہو گیا ۔

اس تناظر میں قوم پرست جماعتوں جئے سندھ اور عوامی تحریک نے سندھ بھر میں احتجاج کی اپیل کی تھی جس پرپیر کو حیدر آباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں جزوی ہڑتال رہی اور کارباری مراکز بند رہے ۔ حیدرآباد کے علاقوں قاسم آباد، بھٹائی نگر، بھٹائی ٹاؤن، حسین آباد، وحدت کالونی، گل سینٹر، فقیر کا پڑ، پٹھان کالونی سمیت دیگر علاقوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی جبکہ شہر میں ٹریفک بھی معمول سے کم رہااور شہر کے مختلف مقامات پر ہونے والی فائرنگ سے خوف وہراس پھیل گیا۔

سکھر ، لاڑکانہ ، نوشہروفیروز، مٹھی، بدین ، گولارچی ، ٹنڈو باگو ، ماتلی میر پور خاص ، عمر کوٹ ، نوشہرو فیروز ، کنڈیارو، ٹنڈو محمد خان ، گھوٹکی ، ٹنڈو الہیار ، نوابشاہ ، خیر پور عمرکوٹ، دادو ، خیرپور اورکشمورسمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں جزوی ہڑتال رہی۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا اور عدالتی امور کا بھی بائیکاٹ کیا گیا جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر تھی ۔ ہڑتال کے موقع پر بعض شہروں میں پیٹرول پمپ بند ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ا نتظامیہ کی جانب سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء ، مشیروں اور اراکین اسمبلی کی رہائشگاہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ سندھ نیشنل فرنٹ، سندھ ترقی پسند پارٹی، سندھی ہاری کمیٹی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اس موقع پر مقررین نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں کمشنری نظام فوری طور پر بحال کیا جائے اور سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کئے جانے کے فیصلے پر حکومت سندھ عوام سے معافی مانگے۔

بعض شہروں میں مشتعل افراد نے سڑکوں پر ٹائر بھی نذر آتش کیے ۔ اس کے علاوہ مختلف ریلیوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی ہوئی۔ بعض شہروں میں پیپلزپارٹی کے جھنڈے بھی اتار دیئے گئے ، اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی ۔

ادھر ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے بعد بھی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کو سکون نصیب نہیں ہوا اور عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں ضلعی حکومتوں کی بحالی کے فیصلے پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس نے موجودہ حکومت پر پہلی مرتبہ سنگین الزامات عائد کیے ۔

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں بشریٰ گوہر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے بعد اے این پی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد خان نے صحافیوں کو بتایا کہ پارٹی نے سندھ میں اپنے وزیر کو روکنے کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے اور سندھ حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جا ئے گا ۔ انہوں نے پیپلزپارٹی پر پہلی بار کھل کر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بد امنی میں پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے ۔

XS
SM
MD
LG