رسائی کے لنکس

قوم پرستوں کی اپیل پر اندرونِ سندھ ہڑتال


قوم پرستوں کی اپیل پر اندرونِ سندھ ہڑتال

قوم پرستوں کی اپیل پر اندرونِ سندھ ہڑتال

سندھ میں 2001ء کے بلدیاتی نظام کی بحالی کے خلاف قوم پرست جماعتوں کی اپیل پر اندرونِ سندھ میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ اس دوران حیدرآباد سمیت اندرونِ سندھ میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہا جہاں قوم پرست جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور دھرنے دےئے گئے۔

جبکہ صوبائی دارالحکومت کراچی میں جمعہ کی شب سے ہی فائرنگ کے مختلف واقعات میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوگئے اور متعدد گاڑیوں کو نذرِآتش کردیا گیا۔ شہر میں تشدد کی اس نئی لہر اور ہڑتال کے پیشِ نظر ہفتے کو بڑے تجارتی مراکز بند رہے اور جلاوٴ گھیراوٴ کے واقعات کے بعد کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے بھی ہفتے کو گاڑیاں بند رکھیں۔ پولیس نے کراچی میں ہنگامہ آرائی کے شبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ کراچی پولیس کے سربراہ کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرکے جلاوٴ گھیراوٴ میں ملوث پچاس مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے ۔

قوم پرست جماعتو ں نے کراچی کے کئی علاقوں میں بھی مظاہرے کیے جبکہ گلستان ِ جوہر کے علاقے میں مظاہرین پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ میں دو سیاسی کارکنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کراچی میں ہڑتال کی اپیل اور حمایت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے حلقوں میں کاروبا رِ زندگی مکمل طور پر معطل رہا ۔اس کے علاوہ شہر کے اکثر علاقوں میں بند تجارتی مراکز دوپہر کے بعد کھلنا شروع ہوگئے تاہم مجموعی طور شہر میں سماجی و معاشی سرگرمیاں معمول سے کم رہیں۔

حکمراں پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کے بعد سابق صدر مشرف کے دور میں متعارف کرائے گئے بلدیاتی نظام کو گزشتہ ماہ منسوخ کرکے صوبے میں 1979ء کا کمشنری نظام نافذ کر دیا تھا ۔ یہ قانون سندھ اسمبلی سے بھی منظور کیا گیا جس کی ایم کیو ایم نے سخت مخالفت کی ۔ بعد میں حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے کر ایک بار پھر صوبے میں 2001ء کے بلدیاتی نظام کو رائج کردیا جس کی حکومتی اتحاد میں شامل جماعت اے این پی اور سندھ کی قوم پرست جماعتیں سخت مخالفت کر رہی ہیں ۔ سندھ بچاوٴ کمیٹی کے تحت قوم پرست جماعتوں کے اتحاد کی ہفتہ کو کی جانے والی ہڑتال کی عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ سنی تحریک اور دیگر جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب کراچی میں تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے جمعہ کو قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر تمام جماعتوں کے سینئر نمائندوں پر مشتمل ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ کمیٹی کراچی کا دورہ کرکے ٹارگٹ کلنگ اور یہاں موجود دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس موقع پر بحث کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے ایوان کو بتایا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات میں فاٹا اور مالا کنڈ سے فرار ہونے والے طالبان شدت پسند ، کالعدم تنظیموں کے اراکین اور لینڈ، ڈرگ ، اسلحہ مافیا کے علاوہ بھتہ خور بھی ملوث ہیں اور بعض کروپوں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG