رسائی کے لنکس

پاکستانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے بھارتی شہری سربجیت سنگھ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے جس کے بعد اس قیدی کی جلد رہائی کا امکان ہے۔

لیکن سرکاری طور پر سر بجیت سنگھ کی سزا میں رعایت یا اس کی رہائی کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سربجیت کی رہائی کے لیے وزارتِ قانون نے سمری وزراتِ داخلہ کو بجھوا دی ہے کیوں کہ وہ پاکستان میں اپنی سزا مکمل کر چکا ہے۔

دہشت گردی کے جرم میں سزا یافتہ بھارتی شہری سربجیت سنگھ نے صدر آصف علی زرداری سے اپیل کر رکھی تھی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کی سزائے موت کو معاف کر دیا جائے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ سربجیت سنگھ کی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی کی اپیل خارج کر چکی ہے۔

سربجیت کے اہل خانہ اس کی تصویر تھامے ہوئے سراپا احتجاج

سربجیت کے اہل خانہ اس کی تصویر تھامے ہوئے سراپا احتجاج

سربجیت کو 1990ء میں پاکستان میں جاسوسی اور بم دھماکوں میں 14 افراد کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں ابتدائی طور پر انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے موت کی سزا سنائی تھی۔

اس سزا کے خلاف اُن کی دائر اپیلوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے خارج کرتے ہوئے اُن کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

سربجیت سنگھ اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور اُن کا موقف رہا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں غلطی سے پاکستان میں داخل ہو گئے تھے اور وہ غلط شناخت کی سزا بھگت رہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے اُسے منجیت سنگھ کے طور پر شناخت کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG