رسائی کے لنکس

قربانی کے جانوروں کی افغانستان اور ایران سمگلنگ

  • ستار کاکڑ

قربانی کے جانوروں کی افغانستان اور ایران سمگلنگ

قربانی کے جانوروں کی افغانستان اور ایران سمگلنگ

عید الالضحیٰ کے مو قع پر صوبائی دارالحکومت کو ئٹہ میں پنجاب اور سندھ کے مختلف شہر وں سے قر بانی کے لاکھوں جانورفروخت کے لیے لائے جاتے ہیں ۔ کو ئٹہ کے نواحی علاقے میں قائم مو یشی منڈی سے مقامی تاجر صحت مند جانور خرید کر اُنھیں ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران اور افغانستان سمگل کر دیتے ہیں۔

بلوچستان میں مو یشیوں کی خرید و فروخت کے کاروبار سے وابستہ بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ روزانہ تقریباً پندرہ بڑے ٹرکوں میں اونٹ، بیل، گائے، بھیڑاور بکریاں لاد کر کوئٹہ سے ایران اور افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔ تاجروں کے بقو ل ایران زندہ پہنچ جانے والی ہربھیڑ اور بکری پر دو ہزارجب کہ اونٹ پر 20 ہزار روپے تک منافع ملتا ہے۔

بلوچستان کے صوبائی وزراء نے اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مو یشیوں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے پرمٹ کے اجرا ء پر پابندی عائد کی جائے۔ لیکن اس پر عملدر آمد نہ ہونے کے بعد اب صوبائی حکومت نے مو یشیوں کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ایران اور افغانستان کے سر حدوں سے ملحقہ اضلاع میں دفعہ 144کے تحت مویشیوں کی نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، یہ حکم دو ماہ تک نافذ العمل رہے گا۔

1990 ء کے عشرے سے پہلے بلوچستان میں بڑی تعداد میں مویشی پالے جاتے تھے۔ لیکن بارشوں میں کمی کے بعد اب بیشتر لوگوں نے مویشی پالنے کاسلسلہ تر ک کر دیا ہے جس کی وجہ سے اب سارا سال جانور سندھ اور پنجاب سے لائے جاتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG