رسائی کے لنکس

پاکستان سماجی شعبوں میں پسماندہ افریقی ممالک کے برابر


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کہتے ہیں کہ معلوماتی انقلاب کے دور میں انسان ہی ترقی کا ذریعہ ہے۔

اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جاری ہونے والی حالیہ رپورٹس کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں تعلیم، صحت، انصاف تک رسائی، خواتین و انسانی حقوق کے علاوہ دیگر سماجی شعبوں سے متعلق صورتحال بہت پریشان کن ہے۔

سرکاری و اقوام متحدہ کے عہدیدار بڑے واضح انداز میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان آئندہ سال تک سماجی ترقی سے متعلق کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کر پائے گا۔ جس کی وجوہات ان کے بقول ملک میں سلامتی کی صورتحال اور قدرتی آفات کے علاوہ حکومتی سطح پر عدم دلچسپی اور فعال پالیسی کا فقدان ہیں۔

عدالت عظمیٰ کو حال ہی میں پیش کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں 2000 سے زائد سرکاری اسکولوں کا وجود یا تو صرف کاغذوں تک محدود ہے یا پھر ان کی عمارتوں پر مقامی با اثر افراد یا کسی دوسرے سرکاری محکمے کا قبضہ ہے جبکہ تقریباً اڑھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی 18 کروڑ آبادی کا نصف سے زائد غذائی قلت کا شکار ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومتوں نے ہمیشہ صرف انفراسٹکچر (بنیادی ڈھانچہ) بہتر بنانے پر سرمایہ کاری کی۔

’’نالج ریوولوشن کے دور میں انسان ہی ترقی کا ذریعہ ہے اور جس ملک میں تعلیم و صحت کی سطح بہت پسماندہ ہو اور وہاں آبادی کا دباؤ بڑھ رہا ہو تو آپ کے کتنے بھی خوبصورت منصوبے ہوں نتائج نہیں دے سکیں گے۔‘‘

انہوں نے افسوس کا بھی اظہار کیا کہ متوسط آمدن والا ملک ہونے کے باوجود پاکستان کے ’’سوشل انڈیکیٹرز‘‘ افریقہ کے ’’کم ترین ترقی‘‘ والے ممالک کے برابر ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک پانچ سالہ منصوبہ بنایا جارہا ہے جس میں سماجی ترقی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین پر تشدد، بچوں کے حقوق کی پامالی، جبری گمشدگیاں، غیر قانونی روایتی انصاف کا نظام (جرگہ، پنچائیت)، آزادی رائے اور مذہبی آزادی کے خلاف کارروائیوں میں کوئی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے سیل کے سربراہ خالد ٹیپو رانا کہتے ہیں کہ گزشتہ چار سال میں تقریباً دو لاکھ درخواستوں کو نمٹایا گیا ہے۔

’’درخواست کی وصولی کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر ہم تو اس پر کام شروع کردیتے ہیں اور ایک ہفتے میں متعلقہ محکموں سے رپورٹس طلب کرلی جاتی ہیں۔‘‘

تاہم سپریم کورٹ کے سینئیر وکیل اطہر من اللہ کہتے ہیں کہ انسانی حقوق سے متعلق سیل کے قیام کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

’’یہ عدالتوں کا کام نہیں کہ وہ اپنے سیلز رکھے۔ جب لوگوں کی توقعات بہت بڑھ جاتی ہیں اور ہر درخواست پر اگر ہر ایک چاہتا ہے کہ اسے ریلیف ملے گا تو ہر ایک میں تو نہیں مل سکتا تو عدالتوں کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

ملک میں بڑھتی ہوئے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے پیش نظر اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو درپیش خطرات اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستیں بھی زیر سماعت ہیں۔

سابق وفاقی وزیر جے سالک کا کہنا تھا کہ ’’کہیں زبانوں میں تقسیم کردیا تو کہیں ذاتوں میں تقسیم کردیا، کہیں ہمیں اقلیتوں و اکثریتوں میں تقسیم کردیا گیا۔ تو قومی سوچ پیدا کرنے کے لیے ایک ادارہ ہونا چاہیے۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف اقتصادی ترقی ہی سے پاکستان میں خوشحالی ممکن نہیں بلکہ حکومت کو سماجی ترقی کو اپنی ترجیحات میں اہم مقام دینا ہوگا۔ پاکستان اس وقت تعلیم اور صحت پر مجموعی طور پر قومی پیداوار کا چار فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔
XS
SM
MD
LG