رسائی کے لنکس

سلمان تاثیر کا قتل: سیکولر اور مذہبی خیالات پر نئی بحث

  • گیری تھامس

گورنر کے قاتل کے حق میں مذہبی تنظیموں کا جلوس

گورنر کے قاتل کے حق میں مذہبی تنظیموں کا جلوس

پاکستان کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے کے گورنر کے قتل سے پاکستانی معاشرے میں سیکولر خیالات اور مذہبی انتہا پسندی کے درمیان جاری کشمکش نمایاں ہو گئی ہے ۔ انتہا پسندی کے رجحانات کو مراعات یافتہ اور سیکولر خیالات رکھنے والے طبقے کے خلاف پائے جانے والے جذبات سے ہوا ملی ہے ۔ یہی طبقہ پاکستان پر حکومت کرتا رہا ہے ۔

اپنے ہی ایک باڈی گارڈ کے ہاتھوں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل سے وہ کشمکش سامنے آ گئی ہے جسے صحافی احمد رشید نے پاکستانی معاشرے کے انتہائی شدید تضاد کا نام دیا ہے ۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک طرف تو ایک نسبتاً چھوٹا سا لیکن سخت جان اسلامی انتہا پسندوں کا گروپ ہے جس کے کچھ ارکان تشدد کے استعمال سے نہیں ہچکچاتے اور دوسری طرف لبرل خیالات رکھنے والا مراعات یافتہ طبقہ ہے۔ اور ان کے بیچ میں عام پاکستانی ہیں جو اقتصادی اور سیاسی غیر یقینی کی کیفیت کی چکی میں پِس رہے ہیں۔

ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ بانیٔ پاکستان، محمد علی جناح کے ذہن میں بہت سی نسلوں اور مذاہب پر مبنی ایسا معاشرہ تھا جسے اسلام کے ذریعے متحد رکھا جا سکے گا۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ بعد کے واقعات سے ملک انتہا پسندی کی طرف مائل ہو گیا۔’’گذشتہ 30 سال کے واقعات کی وجہ سے ، جیسے افغانستان میں سوویت روس کے خلاف جنگ اور 1980 کی دہائی میں جنرل ضیا ء الحق کی معاشرے کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کی پالیسیوں سے، پاکستان میں اسلام پسند فورسز اور کٹر خیالات رکھنے والے فرقوں نے روایتی اور اعتدال پسند سنی فرقوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔‘‘

لیزا کرٹس

لیزا کرٹس

لیکن کٹر مذہبی عناصر کی یہ طاقت ووٹوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی ہے ۔ جب کبھی پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخاب ہوئے ہیں، مذہبی پارٹیاں چند ہی نشستیں جیت سکی ہیں۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ان کی اصل طاقت بیلٹ باکس میں نہیں ، بلکہ سڑک پر دیکھنے میں آتی ہے ۔

پاکستان میں سیاسی طاقت عموماً تعلیم یافتہ ، لبرل اور اکثر مالدار مراعات یافتہ طبقے کے پاس رہی ہے ۔ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے جب ملک میں توہین رسالت کے قوانین کو بے اثر بنانے کی کوشش شروع کی، تو اس سے انتہا پسندوں کی نظر میں پاکستان کو سیکولر بنانے کے خطرناک رجحان کی عکاسی ہوئی۔ انٹیلی جنس کی پرائیویٹ فرم سٹراٹفار کے کامران بخاری کہتے ہیں کہ انتہا پسند عناصر ،پاکستان کے حکمراں طبقے کے خلاف ناراضگی اور عوام کی روز بروز بگڑتی ہوئی اقتصادی مشکلات کو ، نئے لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ ’’پاکستان میں اسلامی عسکریت پسندی اس خیال کی بنا پر پھلتی پھولتی ہے کہ حکمراں طبقہ روایتی مذہبی اقدار کو مسخ کر رہا ہے اور مغرب کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے ایسا کر رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس خیال کو قبول کر لیتے ہیں۔ میں اس قاتل کے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں۔‘‘

لیکن یو ایس نیول وار کالج کی پروفیسر حیات علوی اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اپنی حکومت سے پاکستانیوں کی ناراضگی کی وجہ مذہب نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ان کے لیئے جینا دوبھر ہو گیا ہے۔’’چند مہینے پہلے جب پاکستان میں تباہ کن سیلاب آئے، تو غریب لوگوں کی شکایتیں مذہب کے حوالے سے نہیں تھیں اور نہ انہیں اس سے کوئی مطلب تھا کہ ان کی حکومت سیکولر ہے۔ان کا مسئلہ یہ تھا کہ انہیں حکومت کی طرف سے ایمرجینسی میں کوئی مدد نہیں ملی۔ اتنی بڑی قدرتی آفت کے باوجود انہیں کھانا، پانی اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی میسر نہیں تھیں۔تو اصل مسئلہ روٹی اور بنیادی ضرورتوں کے پورا کرنے کا ہے ۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انتہا پسند حکومت کے بعض شعبوں خاص طور سے سیکورٹی ایجنسیوں میں داخل ہو گئے ہیں۔انٹر سروسز انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کے بعض افسروں پر الزام ہے کہ وہ افغان طالبان اور بھارت مخالف انتہا پسند گروپوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ لیزا کرٹس کہتی ہیں کہ جب حکومت انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتی، تو اس سے ان گروپوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔

سلمان تاثیر کے قتل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبینہ قاتل، ممتاز قادری نے کہا ہے کہ اس نے گورنر کو اس لیئے قتل کیا کیوں کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ ابھی تک کسی بڑی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ قادری پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورسز میں کیسے بھرتی ہوا اور اطلاعات کے مطابق، اس کے انتہا پسندانہ مذہبی خیالات کے باوجود، وہ گورنر کے محافظ دستے میں شامل ہو گیا۔ پاکستانی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ قادری نے بیس سے زیادہ گولیاں گورنر کے جسم میں اتار دیں لیکن ان کے محافظ دستے کے کسی رکن نے جواباً اس پر گولی نہیں چلائی ۔

XS
SM
MD
LG