رسائی کے لنکس

اسلام آباد میں مقیم صومالی شہری اوہائیو حملے پر بات کرنے سے گریزاں


صومالی طالب علموں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں ر ہتی ہے، لیکن عبدالرزاق علی ارتان کے اوہائیو یونیورسٹی پر حملے کے بعد خوف زدہ ہیں اور اس پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

امریکہ کی ریاست اوہائیو کی اسٹیٹ یونیورسٹی میں گزشتہ ہفتے حملہ کرنے والا صومالی پناہ گزین عبدالرزاق علی ارتان 2014ء میں امریکہ منتقل ہونے سے قبل پاکستان میں بھی رہا۔

عبدالرزاق علی ارتان نے اوہائیو یونیورسٹی میں پیدل چلنے والوں کے لیے مختص راستے پر گاڑی چڑھانے کے بعد چاقو سے وار کر کے 11 افراد کو زخمی کر دیا تھا، اور پولیس کی کارروائی میں وہ خود موقع پر ہی مارا گیا۔

عبدالرزاق علی ارتان

عبدالرزاق علی ارتان

پاکستان میں طویل عرصے سے صومالی شہری آتے رہے ہیں لیکن اُن میں زیادہ تر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ’اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی‘ میں تعلیم کے لیے یہاں مقیم ہیں۔ اس یونیورسٹی میں صومالیہ سمیت کئی افریقی ممالک سے نوجوان حصول علم کے لیے آتے ہیں۔

صومالی طالب علموں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین میں مقیم ہے، لیکن عبدالرزاق علی ارتان کے اوہائیو یونیورسٹی پر حملے میں ملوث ہونے کی خبروں کے بعد بظاہر وہ خوفزدہ نظر آئے اور کیمرے کے سامنے بات کرنے سے انکاری تھے۔

تاہم اُن میں سے دو صومالی نوجوانوں نے نام بتائے بغیر کہا کہ وہ عبدالرزاق علی ارتان کو نہیں جانتے البتہ اُنھیں اوہائیو یونیورسٹی میں ہونے والے حملے کا افسوس ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ’جی ٹین‘ میں ایک ہوٹل کے مالک شہباز علی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اُن کے ہوٹل پر 40 سے 50 صومالی کھانا کھانے آتے ہیں اور اُن کے بقول اُنھیں یا مارکیٹ میں دیگر افراد کو صومالی شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

’’ان کے یہاں کھاتے کھلے ہوئے ہیں اور لین دین میں ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ امن پسند اور خوش اخلاق ہیں۔‘‘

احسن علی، کی اس سیکٹر میں باربر شاپ ہے، اُن کا کہنا ہے کہ وہ اوہائیو یونیورسٹی پر حملے یا اُس میں صومالی شہری کے ملوث ہونے کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتے البتہ احسن علی کے بقول اُن کا صومالی نوجوانوں سے گزشتہ 10 سال میں جو رابطہ رہا ہے اس کے مطابق وہ مذہبی رجحان تو رکھتے ہیں لیکن ’’صلح جو‘‘ ہیں۔

’’یہ امن پسند ہیں۔۔۔ ادھر پڑھنے ہی آتے ہیں اور ان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

اوہائیو یونیورسٹی پر حملہ کرنے والے عبدالرزاق علی ارتان کی عمر 18 سال بتائی جاتی ہے اور اطلاعات کے مطابق امریکہ جانے سے قبل وہ لگ بھگ سات سال تک پاکستان میں رہا، جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب وہ پاکستان آیا تو اس کی عمر نو سال کے قریب تھی۔

تاحال عبدالرزاق علی ارتان کے پاکستان میں قیام کے دوران اس کے کسی شدت پسند تنظیم سے روابط کی تصدیق تو نہیں ہوئی تاہم اس حملے کے بعد پاکستان میں مقیم صومالی شہری قدرے ’فکر مند‘ نظر آئے اور اس سارے معاملے پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

XS
SM
MD
LG