رسائی کے لنکس

پاکستان جنوبی افریقہ سے میچ ہی نہیں ون ڈے سیریز بھی ہار گیا


ساؤتھ افریقہ کے ساتھ آخری ون ڈے میچ میں اسٹینڈ بائی وکٹ کیپر عمر اکمل۔ پاکستان کے ریگیولر وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر اچانک غائب ہوکر لندن پہنچ گئے ہیں۔ 8 نومبر، 2010

ساؤتھ افریقہ کے ساتھ آخری ون ڈے میچ میں اسٹینڈ بائی وکٹ کیپر عمر اکمل۔ پاکستان کے ریگیولر وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر اچانک غائب ہوکر لندن پہنچ گئے ہیں۔ 8 نومبر، 2010

جنوبی افریقہ نے دبئی میں کھیلا جانے والا پانچواں ون ڈے بھی جیت لیا ہے۔ پاکستان کو جیت کے لئے 318 رنز بنانے تھے تاہم پاکستان کی پوری ٹیم 260رنز بناکر آوٴٹ ہوگئی اور یوں جنوبی افریقہ نے یہ میچ 57 رنز سے جیت لیا ۔ میچ کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ یہ سیزیز بھی دوکے مقابلے تین سے اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ عمر اکمل 60 اورمحمد حفیظ 59 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ اوپنر شاہ زیب حسن نے انتالیس رنز بنائے۔ آج کے میچ کی سب سے بری بات یہ رہی کہ سابق کپتان یونس خان اور محمد یوسف صرف تین تین رنز ہی بناسکے۔ کپتان شاہد آفریدی نے چوبیس رنز بنائے جبکہ عبدالرزاق نے انتالیس رنز اسکور کئے۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے کیلیس اور پیٹر سن نے تین تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ اسٹین نے دو پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے گرین شرٹس کو جیت کے لیے 318 رنزکا ہدف دیاتھا۔ کپتان گراہم اسمتھ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ پچاس اوورز میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر 318 رنز کا ہدف دیا۔ جیک کیلس نے 83، ہاشم آملہ نے 62، ابراہم ڈی ویلیئرزنے61،جے پی ڈومینی نے 59اور بوتھا نے 28رنز بنائے۔

یہ جیک کیلس کی 80ویں نصف سنچری تھی جبکہ انھوں نے آج ون ڈے کرکٹ میں گیارہ رنز بھی مکمل کرلیے۔پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بولر کپتان شاہد آفریدی تھے جنہوں نے دو وکٹیں اپنے نام کیں جبکہ محمد حفیظ اور شعیب اختر نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

جنوبی افریقہ : جیت کی روایت برقرار رہی
دبئی میں جنوبی افریقہ اور پاکستان کے درمیان جاری پانچواں ون ڈے بھی پاکستان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور یوں جنوبی افریقہ نے ایک روزہ سیریز میں پاکستان کو شکست دے کر اٹھارہ سال سے گرین شرٹ کے خلاف سیریز اپنے نام کرنے کی روایت برقرار رکھی ۔ 1992 کے عالمی کپ میں جنوبی افریقہ کی آمد کے بعد سے اب تک دونوں ٹیمیں پانچ مرتبہ ، پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں مدمقابل آئیں تاہم ہر مرتبہ پروٹیز ہی فتح کا جشن مناتے نظر آئے ۔

مجموعی طور پرجنوبی افریقہ نے ہمیشہ ہی پاکستان پر اپنا رعب برقرار رکھا ۔ دونوں ٹیمیں اب تک 57 بار ایک دوسرے کے سامنے آئیں ۔ جنوبی افریقہ 38 مرتبہ اور پاکستان 18 بار فتح کا حق دار ٹھہراجبکہ ایک میچ ہار جیت کے بغیر اختتام پذیر ہوا ۔ اس کے علاوہ ایک روزہ کرکٹ کے مختلف ایونٹ میں تین بار دونوں ٹیمیں فائنل میں پہنچیں، دو مرتبہ افریقہ نے جشن منایا جبکہ ایک بار پاکستان نے جیت کا مزہ چکھا ۔

دونوں ممالک کے درمیان ایک روزہ سیریزپر ایک نظر
دو ہزار دو میں پاکستان ٹیم نے دورہ جنوبی افریقہ کے دوران پانچ ایک روزہ میچوں کی پہلی سیریزکھیلی ۔ آٹھ دسمبر دو ہزار دو کو ابتدائی میچ میں فتح میزبان ٹیم کوملی ، لیکن گیارہ دسمبر کا دن مہمان کیلئے خوش قسمت ثابت ہوا ۔اس کے بعد 13,16 اور 18 دسمبر کو جنوبی افریقہ کے ستارے عروج پر رہے ۔ اس طرح جنوبی افریقہ نے یہ سریز ایک ، چار سے جیت لی ۔

دو ہزار تین میں جنوبی افریقہ نے پاکستان کا جوابی دورہ کیااور پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریزمیں حصہ لیا ۔ 3 اور 5 اکتوبر کے میچوں میں گرین شرٹس نے فتح حاصل کرکے پہلی مرتبہ سیریزجیتنے کے لئے راہ ہموار کر لی تاہم افریقی ٹیم نے 7,10 اور بارہ اکتوبر کے مسلسل تین میچوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جیت کی روایت کو برقرار رکھا ۔

دو ہزار سات کے اوائل میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا تھا اور پانچ ایک روزہ میچوں کی تیسری سیریزکا انعقاد کیا گیا تھا ۔چار فروری کو پہلا میچ جیت کر جنوبی افریقہ نے سیریزمیں ایک مضبوط بنیاد رکھی لیکن 7 فروری کو پاکستان نے کامیابی حاصل کر کے سیریزبرابر کر دی ۔سیریز کا تیسرا میچ نو فروری کو کھیلا گیا جس کا نتیجہ نہیں نکل سکا تاہم 11اور14 فروری کے میچوں میں جنوبی افریقہ نے لگاتار فتح سے سریزایک ، تین سے اپنے نام کر لی ۔

دونوں ٹیموں کے درمیان دو ہزار سات ہی میں پاکستان کے میدانوں پر پانچ ایک روزہ میچوں کی چوتھی سیریزکھیلی گئی۔18 اکتوبر سے شروع ہونے والی اس سیریزکے ابتدائی میچ جنوبی افریقہ نے فتح حاصل کر کے برتری حاصل کر لی تاہم 20 اور23 اکتوبر کو کھیلے گئے میچوں میں پاکستان کی قسمت جاگی ،لیکن 26 اور29 اکتوبر کے میچوں میں افریقہ نے شاندار کم بیک کر کے سیریزدو ، تین سے اپنے نام کر لی اور پاکستان کے سریز جیتنے کے خواب چکنا چور کر دیئے ۔

دو ہزار دس میں پاکستان نے پانچویں ایک روزہ سیریز میں دبئی کے شیخ زید اسٹیڈیم پر جنوبی افریقہ کی میزبانی کی ۔ 29 اکتوبر سے شروع ہونے والی پانچ ایک روزہ میچوں کے ابتدائی مقابلے میں جنوبی افریقہ کامیاب ہوا ۔ 31 اکتوبر کے میچ میں کامیابی حاصل کر کے سیریز، ایک ، ایک سے برابر کر دی تاہم 2 نومبر کو ایک مرتبہ پھر فتح افریقہ نے یہ میچ جیت کر سیریزمیں دو ایک کی برتری حاصل کر لی ۔ پانچ نومبر کو پاکستان نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کر لی اور سیریزبرابر کر لی ۔آج سیریزکے فیصلہ کن میچ میں ایک بار پھرجنوبی افریقہ نے پاکستان کو شکست دے کر سیریزجیت لی ۔ یہ مسلسل پانچویں سیریزہے جس میں پروٹیز کے ہاتھوں شکست پاکستان کا مقدر بنی ۔

مختلف ایونٹ میں معرکہ آرائی
1992 کے عالمی کپ میں جب جنوبی افریقہ کی آمد ہوئی توورلڈ کپ کے سلسلے میں کھیلے جانے والے مقابلے میں پاکستان کو افریقہ کے ہاتھوں پہلی ناکامی کا کڑو ا گھونٹ بھرنا پڑا۔

1993 میں چار ملکی ٹوٹل انٹرنیشنل سیریز میں نو ، پندرہ اور اکیس فروری کو دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مقابلے میں اتری لیکن ان تینوں مقابلوں میں فتح پاکستان کی ہوئی ۔

1994 میں سہ فریقی ویلز کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان تین میچ کھیلے گئے اور اس مرتبہ بھی گزشتہ سال کی طرح سب میچوں میں فتح گرین شرٹس کے حصے میں آئی ۔ یہ مقابلے سولہ ، بیس اور اٹھائیس اکتوبر کو منعقد کیے گئے ۔

1994کے آخری مہینے میں منڈیلا ٹرافی کا انعقاد جنوبی افریقہ میں ہوا جس میں ان دونوں ٹیموں سمیت چار ملکوں کی ٹیموں نے نمائندگی کی ۔ دونوں ٹیموں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل تک رسائل حاصل کی ۔ دس دسمبر کو جنوبی افریقہ کامیاب ہوا جبکہ سترہ دسمبر کو پاکستان۔دونوں ٹیموں کے درمیان دس اور بارہ جنوری 1995 کودو فائنل کھیلے گئے اور دونوں میں جیت جنوبی افریقہ کے حصے میں آئی ۔

1996 کے عالمی کپ میں انتیس فروری کو کراچی میں کھیلے جانے والے گروپ میچ میں پاکستان کو شکست ہوئی ۔ 13 اپریل 1996 کو پیپسی کپ کے ایک میچ میں جنوبی افریقہ پھر کامیاب ہوا ۔اسی سال ستمبر ، اکتوبر میں دونوں ٹیمیں کینیا میں کے سی اے کپ سنچری ٹورنامنٹ میں مد مقابل آئیں۔ 29 ستمبر کو جنوبی افریقہ نے فتح حاصل کی لیکن پاکستان نے فائنل تک رسائی حاصل کر لی تاہم وہاں اسے ایک مرتبہ پھر 6 اکتوبر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

1997 میں پاکستان میں منعقدہ ویلز کپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان دو نومبر کو ایک میچ کھیلا گیا جس میں جنوبی افریقہ نے کامیابی حاصل کی ۔

1998 میں اسٹنڈرڈ چارٹرڈ ٹورنامنٹ میں فائنل سمیت چار میچز کھیلے گئے ۔ ایونٹ کے تینوں میچ میں گرین شرٹس ناکامی سے دو چارہوئیں،تین ، گیارہ اورسترہ تاریخ کو یہ میچ منعقد کیے گئے لیکن اس کے باوجود دیگر ٹیموں پر پاکستان غالب آیا اور 23 اپریل کو ہونے والے فائنل میں پہنچ گیا جہاں اسے ایک مرتبہ پھر پروٹیز کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ 1999 میں عالمی کپ کے ایک میچ میں پانچ جون کو جنوبی افریقہ نے ایک بار پھر مات دے دی ۔

2000 میں کوکاکولا کپ کا انعقاد کیا گیا ۔چوبیس مارچ کو فتح جنوبی افریقہ جبکہ 28 کو پاکستان کے حصے میں آئی ۔31 مارچ کو فائنل میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا ۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے کسی بھی ایونٹ کے فائنل میں پروٹیز کو شکست دی ہو ۔ اسی سال جولائی میں سری لنکا میں سہ ملکی ٹورنامنٹ منعقد ہوا تاہم 8 اور 12 جولائی کے دونوں میں شکست پاکستان کا مقدر بنی ۔ 2000ہی میں سنگا پور چیلنج کپ کا انعقاد کیا گیا ،23 اگست جنوبی افریقہ جبکہ 27 اگست پاکستان کامیاب ہوا ۔ 2002 کے مراکو کپ میں آمنے سامنے تھیں ۔بارہ اور اٹھارہ اگست کے دونوں میچوں میں کامیابی پروٹیز کے ہی ہاتھوں میں گئی ۔

XS
SM
MD
LG