رسائی کے لنکس

پاکستان کے قبائلی خطے جنوبی وزیرستان میں سرکاری فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں میں ایک فوجی سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوجی ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ لڑائی رات دیر گئے اُس وقت شروع ہوئی جب عسکریت پسندوں نےعلاقے کے انتظامی مرکز وانا کے قریب ایک حفاظتی چوکی پر دھاوا بول دیا۔

قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق طالبان کمانڈر ملنگ جان سے تھا جو رواں ہفتے اپنے کئی ساتھیوں سمیت ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

قبائلیوں کا کہنا ہے کہ فوجی چوکی پرعسکریت پسندوں کے حملے کے ردعمل میں اتوار کی صبح حکام نے مشتبہ عمارتوں کے خلاف کارروائی شروع کی مگر اس سے قبل مقامی رہائشیوں کو علاقہ چھوڑنے کا انتباہ بھی کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق فوجی آپریشن کے دوران مکانات پر گولے گرنے اور فائرنگ میں کم از کم پانچ عام شہری ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔ تاہم یہ واضح نہیں کے یہ گولے کس نے داغے تھے۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ہفتہ اور اتوار کو اوپر تلے دو ڈرون حملوں میں متعدد جنگجو ہلاک ہو گئے تھے جن میں ملنگ جان کے علاوہ غلام خان نامی اہم طالبان کمانڈر بھی شامل تھا۔ ان شدت پسندوں کا تعلق مولوی نذیر گروپ سے تھا جو حکومت کے حامی امن لشکر کا حصہ ہے۔

XS
SM
MD
LG