رسائی کے لنکس

ڈرون حملے میں پانچ 'شدت پسند' ہلاک، پاکستان کی مذمت


مارے جانے والے مشتبہ شدت پسندوں میں سے دو کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسند تھے۔ پاکستان نے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں جمعرات کو مبینہ امریکی ڈرون حملے میں کم ازکم پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔

مقامی قبائلی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق وارسک کے علاقے میں نرگسئی نامی گاؤں میں ایک مرکز پر ڈرون طیارے سے میزائل داغے گئے جس سے یہ عمارت پوری طرح تباہ ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی شدت پسند بھی شامل ہیں۔

قبائلی علاقوں میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کے باعث ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

پاکستان نے ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ حکومت پاکستان مسلسل یہ کہتی رہی ہے کہ اس طرح کے حملے اُس کی ملکی سالمیت اور سرحدی حدود کی خلاف ورزی ہیں۔

تسنیم اسلم نے کہا کہ ’’حکومت پاکستان اس وقت خود دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے اس لیے (حکومت) سمجھتی ہے کہ ایسے حملے غیر ضروری ہیں اور ان کو بند ہونا چاہیئے۔‘‘

وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ڈرون حملوں اور ان کے اثرات کے معاملات پر پاکستان امریکہ سے رابطوں میں مسلسل بات کرتا رہا ہے۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے سربراہان کی سطح سے لے کر دیگر سطحوں کے رابطوں تک پاکستان ڈرون حملوں کے معاملے کو اٹھاتا رہا ہے۔

تاہم امریکہ اور اس کے دیگر مغربی اتحادیوں کا ماننا ہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ علاقوں میں شدت پسندوں کی آماجگاہوں کے خلاف ڈرون ایک موثر ہتھیار ہے۔

گزشتہ سال کے اواخر سے ڈرون سے کی جانے والی کارروائیوں میں تقریباً چھ ماہ کا تعطل آیا لیکن رواں سال جون میں یہ میزائل حملے دوبارہ شروع ہوئے۔

واضح رہے کہ افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ایک بار پھر بغیر ہوا باز کے جاسوس طیاروں کے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

رواں ماہ اب تک شمالی و جنوبی وزیرستان میں کم از کم سات ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن میں غیر ملکیوں سمیت 20 سے زائد مشتبہ شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں جون کے وسط سے ملکی و غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے جس میں اب تک 1100 سے زائد شدت پسند مارے جا چکے ہیں۔

’ضرب عضب‘ نامی اس کارروائی کے دوران بھی شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے ہو چکے ہیں جن کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا فوجی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔

XS
SM
MD
LG