رسائی کے لنکس

مشرف حملہ کیس: تین مجرموں کی سزا پر وفاق کو نوٹس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سابق صدر کے قافلے پر 2003ء میں راولپنڈی میں ایک حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان کی ایک اعلیٰ عدالت نے ملک کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے تین مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کو موخر کرتے ہوئے وفاق کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے مجرموں کی درخواست پر ڈپٹی اٹارنی جنرل کو 12 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سابق صدر کے قافلے پر 2003ء میں راولپنڈی میں ایک حملے کی منصوبہ بندی کرنے پر چار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں پاکستانی فضائیہ کے تین اہلکار خالد محمود، نواز علی اور نیاز محمد کے علاوہ ایک شہری مشتاق احمد بھی شامل تھا۔

ان چار مجرمان میں سے نیاز محمد کو حال ہی میں پشاور کی جیل میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

مجرموں کے وکیل کا موقف تھا کہ 2003ء میں جھنڈا چیچی کے علاقے میں سابق فوجی صدر پر ہونے والے حملے میں کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا تھا اس لیے اُن کے موکلئین کو فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت درست فیصلہ نہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد اس بارے میں وفاق کا موقف جاننے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔

گزشتہ ماہ پشاور کے اسکول پر طالبان کے مہلک حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد سے اب تک نو مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستانی پارلیمان نے اکیسویں آئینی ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی منظوری دی جو صدر ممنون حسین کے دستخط کے بعد قانون کا حصہ بن گئی ہیں۔

اس ترمیم کے تحت ملک میں دو سال کے لیے فوجی عدالتیں بنائی جائیں گی جن میں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک ترجمان نے جمعرات کو نیوز بریفنگ میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اس ضمن میں قانون کی پاسداری کی جائے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کا حامی ہے تاہم وہ عدالتی کارروائی قانون کے مطابق یقینی بنانے کا خواہاں ہے۔

اُدھر پاکستانی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ فوجی عدالتوں کے کام کرنے کے حوالے سے متعلق سامنے آنے والی اکثر و بیشتر خبریں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتیں اور فوجی قیادت مل کر کل جماعتی اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں، فوجی عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو وضع کر رہی ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ طریقہ کار مکمل ہو گا اس کی تفصیلات جاری کر دی جائیں گی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کا طریقہ کار ان واضح خطوط کے مطابق تیار کیا جائے گا، جس کے تحت ان عدالتوں میں صرف دہشت گردی سے متعلق مقدمات ہی سماعت کے لیے بھیجے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG