رسائی کے لنکس

پاناما کیس: فیصلے کی گھڑی، شاہراہ دستور پر سکیورٹی سخت


پاناما پیپرز میں سامنے آنے والے انکشافات سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کا فیصلہ جمعرات کو سنایا جانا ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ کے اردگرد سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

فیصلے سننے کے لیے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور ایک مرکزی درخواست گزار جماعت تحریک انصاف کے قائدین عدالت عظمیٰ پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

متوقع فیصلے کا انتظار ویسے تو تمام ہی سیاسی جماعتوں کو ہے لیکن سپریم کورٹ میں چلنے والے مقدمے کے دو بڑے فریق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل پر اس عدالتی فیصلے گہرے اثرات ہو سکتے ہیں۔

اس لیے دونوں ہی جماعتوں کی سینیئر قیادت کے بدھ کو مشاورتی اجلاس بھی ہوئے۔

تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیئر راہنما راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت معمول کے مطابق اپنا کام جاری رکھے ہوئے۔

ماہر قانون اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر علی ظفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ فیصلے کے بارے میں حتمی طور پر تو کچھ کہنا مشکل ہے لیکن اُن کے بقول اس سے پاکستان کو درپیش بدعنوانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے راہ متعین کی جا سکتی ہے۔

’’فیصلے میں یہ تو ضرور آئے گا کہ بدعنوانی معاشرے کے لیے ایک کینسر کی طرح ہے اور یہ بھی ضرور آئے گا کہ اس کے نقصانات کیا ہوتے ہیں اور امید یہ بھی ہے کہ جج صاحبان یہ بھی ضرور لکھیں گےبدعنوانی کو روکنے کے لیے کیا روڈ میپ ہونا چاہیئے، کیا قانون سازی ہونی چاہیئے اور یہکہ ادارے بننے چاہیں یہاں تک تو ایکیڈیمک فیصلہ کافی اچھا ہوگا اس کے بعد دو تین معاملات ہیں جن کے بارے میں اس وقت تو صرف اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کی عدالت عظمٰی کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ہونے پر 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

’آف شور‘ کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک اثاثے اور جائیدادیں بنانے سے متعلق پاناما کی ایک لا فرم موساک فونسیکا کی معلومات گزشتہ سال منظر عام پر آئی تھیں۔

پاناما پیپرز میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے دو بیٹوں حسین اور حسن نواز کے علاوہ بیٹی مریم نواز کے نام سامنے آنے کے بعد پاکستان میں حزب مخالف کی جماعتوں خاص طور تحریک انصاف نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس بارے میں عدالت عظمٰی میں درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔

تاہم حکمران جماعت کا موقف رہا ہے کہ وزیراعظم کا پاناما پیپرز میں نام نہیں ہے اور اُن کے بچے قانون کے مطابق بیرون ملک کاروبار کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG