رسائی کے لنکس

پاکستانی کرکٹ فینز کے لئے یہ فتح اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ جیت پورے دس وکٹوں سے ٹیم نے اپنے نام کی ہے ۔ اس فتح میں سینئر کھلاڑی یونس خان نے سب سے اہم کردار اداکیا اور ڈبل سنچری اسکور کی ، اسی لئے انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

مسلسل دو میچوں میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد چوتھے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے آخر کار اپنے ہم وطنوں کو یوم آزادی کا تحفہ دے ہی دیا۔

چار میچوں میں پہلا میچ پاکستان نے باقی دو انگلینڈ نے اور آخری ٹیسٹ پھر پاکستان نے جیتا اور یوںچار میچوں کی سیریزدو، دو سے برابر ہوگئی ۔

پاکستانی کرکٹ فینز کے لئے یہ فتح اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ جیت پورے دس وکٹوں سے ٹیم نے اپنے نام کی ہے ۔ اس فتح میں سینئر کھلاڑی یونس خان نے سب سے اہم کردار ادا کیا اور ڈبل سنچری اسکور کی ، اسی لئے انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

یونس خان کے ساتھ ساتھ جشن آزادی کے اس تحفے میں یاسر شاہ کو بھی کوئی کم کارنامہ نہیں تھا انہوں نے نصف ٹیم کو پویلین کی راہ دکھائی ۔ بیٹنگ میں یونس خان تو بالنگ میں یاسر شاہ نے میزبان ٹیم کو فتح سے دور رکھا۔

اتوار کو انگلینڈ کی دوسری اننگز ختم ہوئی تو پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے صرف چالیس رنز بنانا تھے۔ اظہرعلی نے 30 اور سمیع اسلم نے 12رنز بنائے، میچ اپنے نام کیا اور آؤٹ بھی نہیں ہوئے۔ وننگ شارٹ اظہر علی نے لگایا اور گینڈ کو باؤنڈی کے باہر پھینک دیا۔ یہی چھکا پاکستان کے لئے جیت کا سبب بنا۔

اس سے قبل انگلینڈ نے اتوار کو 88 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ پر اننگز دوبارہ شروع کی تھی۔ مجموعی اسکور میں 40 رنز کے اضافے کے بعد بیلنس17رنز بناکر پویلین لوٹ گئے، بیرسٹو کے ساتھ معین علی نے اننگز کو آگے بڑھایا اور اعتماد کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسکور 193 رنز تک پہنچادیا، اس موقع پر معین علی 32رنز بناکر یاسر شاہ کی گیند پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔

بیرسٹو کی دس ویں سنچری
ووکس زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور صرف 4رنز بناکر رن آؤٹ ہوگئے۔ اس دوران مرد بحران بیرسٹو نے اپنی نصف سنچری مکمل کی جو ٹیسٹ میچوں میں ان کی 10 ویں جبکہ پاکستان کے خلاف چوتھی نصف سنچری ہے۔ بیرسٹو ،وہاب ریاض کی گیند پر اظہر علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، انہوں نے 81 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

بیرسٹو ،سب سے زیادہ رنز بنانے والے دوسرے وکٹ کیپر
بیرسٹو 992 رنز کے ساتھ کیلنڈر ایئر میںدوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے وکٹ کیپر بن گئے ہیں، 2000ء میں زمبابوے کے اینڈی فلاورنے کلینڈر ایئر میں ایک ہزار پینتالیس رنز بنائے تھے۔

بغیر کوئی وکٹ گنوائے ہدف حاصل
کرس براڈ نے 5 جبکہ جیمس اینڈرسن نے 17رنز کی اننگز کھیلی۔فن 16رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے، یوں انگلینڈ کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 253رنز پر ڈھیرہوگئی۔ پاکستان کو میچ جیتنے کیلئے صرف 40 رنز کا ہدف ملا جو اس نے بغیر کوئی وکٹ گنوائے حاصل کرلیا۔

پاکستان کی طرف سے یاسر شاہ نے 5، وہاب ریاض نے 2جبکہ سہیل خان اور افتخار احمد نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ آخری میچ کا آخری اسکور یہ رہا۔ انگلینڈ 328 اور 253 رنز۔ پاکستان 542 اور بغیر کوئی وکٹ گنوالے 42 رنز۔

مصباح الحق،کرس ووکس مین آف دی سیریز
شاندار 218 رنز اسکور کرنے پر یونس خان کو مین آف دی میچ جبکہ پاکستان کی طرف سے کپتان مصباح الحق اور انگلینڈ کی طرف کرس ووکس کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا۔

’پاکستان انگلینڈ سیریز‘ کا ’حساب کتاب ‘
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اب تک 24ٹیسٹ سیریز کھیلی جاچکی ہیں، پاکستان نے 8اور انگلینڈ نے 9میں کامیابی حاصل کی جبکہ 7سیریز ڈرا ہوئیں۔ لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان نے انگلینڈ کو 75رنز سے شکست دی تھی جبکہ انگلینڈ نے اولڈ ٹریفورڈ میں 330 رنز اور ایجبسٹن میں 141 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی اور پاکستان نے آج اوول میں چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز دو، دو سے برابر کردی۔

XS
SM
MD
LG