رسائی کے لنکس

پاکستان اور سری لنکا کا دوطرفہ تجارت کو بڑھانے پر اتفاق

  • عشرت سلیم

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سری لنکا اور پاکستان کی تجارت کا حجم چالیس کروڑ اڑتیس لاکھ ڈالر ہے جسے بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان اور سری لنکا نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے کے علاوہ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے ہیں۔

سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں اُن کے پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے جس کے بعد دو معاہدوں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے مفاہمت کی چار یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

سب سے اہم مفاہمت کی یاداشت دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق تھی تاہم سرکاری بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ سری لنکا کی اٹامک انرجی اتھارٹی اور پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے درمیان تعاون کی کیا نوعیت ہو گی۔

اس کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ اور تعلیمی تعاون کے معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے۔

وزیراعظم نواز شریف نے مہمان صدر کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم بہت کم ہے جسے بڑھا کر دگنا کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سری لنکا اور پاکستان کی تجارت کا حجم چالیس کروڑ اڑتیس لاکھ ڈالر ہے جسے بڑھا کر ایک ارب ڈالر تک کیا جا سکتا ہے۔

اس سال جنوری میں منتخب ہونے والے صدر میتھری پالا سری سینا کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، وہ اس سے قبل بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

گزشتہ سال اگست میں سری لنکا کے اس وقت کے صدر مہندہ راجاپاکسے کا دورۂ پاکستان متوقع تھا مگر پاکستان تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں جاری دھرنوں سے پیدا ہونے والے سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اسے منسوخ کرنا پڑا تھا۔

جنوبی ایشیا کی علاقائی تنظیم سارک کا رکن ہونے کی وجہ سے سری لنکا کے پاکستان سے گہرے سیاسی اور ثقافتی روابط رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، سیاحت، تجارت اور دفاعی شعبوں میں قریبی تعلقات ہیں۔ ایک طویل عرصے سے پاکستان نے سری لنکا کے درمیان دفاعی تعاون بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG