رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں چار ماہ بعد بھی غیر فعال


ماہرین اور بعض قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس سے نا صرف قانون سازی بلکہ حکومت کی کارکردگی پر پارلیمانی جائزے کا نظام بھی شدید متاثر ہورہا ہے۔

قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق منتخب ایوان زیریں کے پہلے اجلاس کے بعد ایک ماہ میں اس کی قائمہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لانا ضروری ہوتا ہے مگر حکومت کی طرف سے نا صرف اس میں تاخیر کی گئی بلکہ چار ماہ گزرنے کے باوجود کمیٹیوں کے چیئرمین کے انتخابات نا ہونے کی وجہ سے یہ اپنا کام شروع نا کر سکیں۔

ماہرین اور بعض قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس سے نا صرف قانون سازی بلکہ حکومت کی کارکردگی پر پارلیمانی جائزے کا نظام بھی شدید متاثر ہورہا ہے۔

حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے قانون ساز شیخ روحیل اصغر نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دہشت گردی، توانائی کے بحران اور معیشت جیسے سنگین مسائل سے متعلق حکومت کی مصروفیات کی وجہ سے یہ تاخیر ہوئی۔

تاہم امریکہ سے وطن واپسی پر وزیر اعظم نواز شریف کمیٹیوں کے چیئرمین کے ناموں کو حتمی شکل دے دیں گے۔

’’اس سے فرق تو تب پڑتا ہے جب کمیٹی کو کوئی معاملہ بھیجا جائے کہ وہ اس پر غور کریں تو میری نظر میں تو پچھلے ان دنوں میں کوئی ایسا ایشوء نہیں آیا جسے کمیٹی میں بھیجا جائے تو جب یہ عمل (چیئرمین کے ناموں کا فیصلہ) ہوگیا تو کمیٹیاں فنکشنل بھی ہو جائیں گی۔‘‘

قائمہ کمیٹیوں کے دائرہ اختیار میں قانونی مسودوں کی نوک پلک درست کرنے کے ساتھ ساتھ وزارتوں کی کارکردگی اور حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کا جائزہ لیتے ہوئے پارلیمان کو ان میں بہتری کے لیے تجویز پیش کرنا بھی شامل ہے۔

اقتدار میں آنے کے بعد نواز انتظامیہ نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے 6 ارب 70 کروڑ ڈالر کے قرضے کے معاہدے کے علاوہ قومی فضائی کمپنی پی آئی اے سمیت 30 سے زائد سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب یوسف تالپور کہتے ہیں کہ قائمہ کمیٹیوں سے متعلق تاخیر اس بات کی مظہر ہے کہ شاید حکومت اپنے فیصلوں اور پالیسیوں پر پارلیمان کی رائے حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

’’تیل اور بجلی کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ وزیراعظم امریکہ گئے ہیں۔ بہت اہم دورہ تھا اب اگر خارجہ امور کی کمیٹی ہوتی تو ان کے جانے سے پہلے اس پر بات چیت ہوتی۔ کئی ممبروں نے اپنے بل پیش کیے ہوئے ہیں۔ اب اس پر کارروائی اس لیے نہیں کرتے کہ وہ کمیٹیوں میں بھیجنے پڑتے ہیں اور وہ ہے نہیں۔‘‘

نواز حکومت کے آنے کے بعد پارلیمان میں کوئی خاطر خواہ قانون سازی دیکھنے میں نہیں آئی اور شدت پسندی سے اور بدامنی کے خلاف کارروائیوں کو موثر بنانے کے لیے صدراتی آرڈیننسز جاری کیے گئے۔
XS
SM
MD
LG