رسائی کے لنکس

امریکہ نےباضابطہ طور پرکوئی ایسی بات نہیں کہی:تجزیہ کار

  • بہجت گیلانی

امریکہ نےباضابطہ طور پرکوئی ایسی بات نہیں کہی:تجزیہ کار

امریکہ نےباضابطہ طور پرکوئی ایسی بات نہیں کہی:تجزیہ کار

اسٹیلتھ ہیلی کاپٹر کے حصے تک چین کی رسائی کےبارے میں اخباری رپورٹوں پراپنی رائے دیتے ہوئے، تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ابھی تک اُن کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر اِس معاملے کواُٹھایا ہو، جب کہ پاکستان پہلے ہی اِن رپورٹوں کو مسترد کرچکا ہے

پاکستان فوج نے اِن اخباری رپورٹوں کی تردید کی ہے جِن میں کہا گیا ہے کہ دومئی کو ایبٹ آباد میں ہونے والی امریکی کمانڈو کارروائی کے دوران گِرنےوالےاسٹیلتھ ہیلی کاپٹرکےباقیماندہ پرزوں تک چین کو کسی طرح کی کوئی رسائی دی گئی ہے۔

منگل کو ’وائس آف امریکہ‘ کےحالاتِ حاضرہ کے پروگرام ’اِن دِی نیوز‘ میں شریک تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ابھی تک اُن کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں آئی کہ امریکہ نے باضابطہ طور پر اِس معاملے کواُٹھایا ہو، جب کہ ان اخباری رپورٹوں کے بارے میں پاکستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ’ اِن اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں‘۔

پروگرام کے شرکاٴ میں دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم اور امریکہ کی بفیلو یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے ماہر، پروفیسرفیضان الحق شامل تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ یہ درست ہےکہ حالیہ دِنوں میں پاک امریکہ تعلقات ’تناؤ کا شکار ہیں‘، جِنھیں درست کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

اِس سلسلے میں، اُن کا کہنا تھا کہ ’بداعتمادی‘ کو ختم ہونا چاہیئے، کیونکہ انسدادِ دہشت گردی کےحوالے سے دونوں اتحادی ممالک کا ایک دوسرے پرقریبی انحصار ہے۔

تجزیہ کاروں نے اِس بات پر زور دیا کہ بات چیت کے ذریعے دونوں ملک درپیش معاملات کو بروقت حل کرلیا کریں، اوریہ کہ باہمی تعلقات میں تناؤ کا کوئی معاملہ کسی طور پراخبارات کی زینت نہیں بننا چاہیئے۔

پروفیسر فیضان الحق کے خیال میں تناؤ میں کمی اورغلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے امریکہ کو ’کچھ قدم اٹھانے پڑیں گے‘، بلکہ، پاکستان کی طرف سے بھی ’ایسے ہی اقدام‘ کی ضرورت ہے۔

اِس سلے میں، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ اِس میں دو رائے نہیں کہ امریکہ سے پاکستان کے تعلقات ’بہترین ‘ ہونے چاہئیں، جو بات خود پاکستان کےاپنے مفاد میں ہے۔ اُن کے الفاظ میں: ’ہم امریکی قوم کی بڑی قدر کرتے ہیں اور امریکہ کو ایک عظیم قوم سمجھتے ہیں‘۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے مفادات کبھی فوجی ذریعے سےحاصل نہیں ہوسکتے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG