رسائی کے لنکس

اسحق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں پوری قوم یکجا ہے اور اس کی حفاظت پر اسٹریٹیجک کمانڈ فورس معمور ہے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک کے حساس اثاثوں بشمول جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کے لیے ایک مربوط نظام موجود ہے جو بین الاقوامی طور پر مستند تحفظ اور حفاظت کے معیار پر مکمل طورپورا اترتا ہے۔

اُنھوں نے یہ بیان ہفتہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ہونے والی بحث کو سمیٹتے ہوئے دیا۔

’’پچیس ہزار اہلکاروں کی ایک اعلٰی تربیت یافتہ جدید اسلحہ سے لیس مخصوص سکیورٹی فورس اس کی حفاظت پر معمور ہے… جدید ترین ساز و سامان ان 25 ہزار لوگوں کے پاس موجود ہے۔‘‘

وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں پوری قوم یکجا ہے اور اس کی حفاظت پر اسٹریٹیجک کمانڈ فورس معمور ہے۔

’’ہم ہر وقت چوکس ہیں اور ہم پر غفلت کا کوئی لمحہ نہیں گزرتا۔ تاہم ایسے حالات اور واقعات کی تیاری کرتے رہتے ہیں جن کا سوچنا بھی مشکل ہے اور ہمارا خطرات کی نشاندہی کرنے کا نظام مستقل بنیادوں پر بلند ترین سطح پر رہتا ہے جو ہر وقت ہمارے زیر غور اور زیر تجربہ رہتا ہے۔‘‘

وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں یہ بیان دینے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں بسنے والوں کا اس پروگرام کے تحفظ اور حفاظت سے متعلق کیے جانے والے اقدامات پر اعتماد بڑھے گا۔

اسحق ڈار

اسحق ڈار


’’پاکستان بین الاقوامی برادری کا ایک نہایت ہی ذمہ دار رکن ہے جو مکمل طور پر اس بات کا پابند ہے کہ وہ اس کے حساس اثاثے حفاظت اور تحفظ کے اعلٰی ترین معیار پر پورا اترے اور کسی بھی شخص یا گروہ کو یہ طاقت حاصل نہیں ہو گی کہ ان کے ناپاک ہاتھ اس پروگرام کے قریب بھی پہنچ سکیں۔‘‘


قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ حکومت معاشی استحکام کے لیے کوشاں ہے اور اراکین اسمبلی کی کئی تجاویز کو بھی آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اُُنھوں نے کم از کم ماہانہ اجرت میں اضافے کا اعلان بھی کیا۔ ’’وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمام وفاقی اداروں میں یکم جولائی 2013ء سے کم از کم اجرت کو آٹھ ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے کر دیا جائے گا۔‘‘

اُنھوں نے عالمی مالیاتی فنڈ ’آئی ایم ایف‘ کی ایک ٹیم کے دورہ پاکستان پر اراکین پارلیمان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کو تین ارب ڈالر سے زائد کا قرض واپس کرنا ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں سے رابطوں کے دوران ملکی اور عوامی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG