رسائی کے لنکس

پاکستان: رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق قوانین سخت

  • عشرت سلیم

فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے کہا کہ ہمارے سرکاری ادارے انسداد منی لانڈرنگ میں اتنی مہارت نہیں رکھتے اور مسلسل کوششوں کے بغیر دہشت گردوں کے مالی ذرائع کا پتا چلانا اور انہیں ختم کرنا مشکل ہو گا۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ملک میں دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ء کو مزید مؤثر بنانے کے لیے رواں ہفتے ان میں ترامیم منظور کی ہیں۔ سینیٹ نے ان ترامیم کی منظوری پہلے ہی دے دی تھی۔

انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل میں دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکنے سے متعلق اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا تھا اور اس قانون میں ترمیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

منی لانڈرنگ کی اصطلاح عموماً ایسے طریقوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کے ذریعے جرائم پیشہ افراد غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی دولت کے ذرائع کو چھپا کر اسے قانونی ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عموماً غیر قانونی طریقوں سے رقوم کو بیرون ملک منتقل کر کے کالے دھن کو سفید بنایا جاتا ہے۔

رواں ہفتے امریکی محکمہ خزانہ کی طرف سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم سے پیسہ اکٹھا کرنے کے علاوہ نجی عطیات اور خیراتی اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم ے دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی ہے۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پہلے جو قانون بنایا گیا تھا وہ اتنا موثر تھا۔

’’تجربے سے یہ ثابت ہوا کہ اب تک لوگ کسی نہ کسی بہانے سے فنڈنگ لے لیتے ہیں اور اسے دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قانون میں انہوں نے جو کمزور یا سقم دیکھا اسے دور کرنے کے لیے ترامیم کی گئیں ہیں، تاکہ پاکستان مؤثر طریقے سے اس قسم کی مالی اعانت کو روکے۔‘‘

پاکستان کے سابق سیکرٹری داخلہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی میں ملوث بہت سی تنظیمیں بیرون ملک سے بھی مالی اعانت حاصل کرتی ہیں اور اس کے لیے وہ مختلف ذرائع مثلاً ہنڈی، جعلی کمپنیوں کا استعمال یا نقد رقوم کی ترسیل کرتی ہیں جن کا پتا چلانا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کام ہے۔

’’وہ چیزیں جو پہلے انویسٹی گیٹ ہوتی تھیں اور سمجھا جاتا تھا کہ یہ بینک کا کام ہے ہمارا کام نہیں ہے، وہ اختیارات حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دے رہی ہے تاکہ وہ ان کو پکڑ سکیں اور انہیں سزا دلوا سکیں۔‘‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرکاری ادارے اس کام میں اتنی مہارت نہیں رکھتے اور مسلسل کوششوں کے بغیر دہشت گردوں کے مالی ذرائع کا پتا چلانا اور انہیں ختم کرنا مشکل ہو گا۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ترامیم کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ اب فنانشل ایکشن ٹاکس فورس کی طرف سے بنائے گئے عالمی معیارات سے مطابقت رکھتا ہے۔

جون میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے ضوابط جاری کیے تھے اور یہ قانون ان ضوابط کے نفاذ میں مدد دے گا۔

XS
SM
MD
LG