رسائی کے لنکس

لشکر طیبہ کی طلبہ تنظیم دہشت گردوں کی فہرست میں شامل


Hafiz Saeed, leader of Jamaat-ud-Dawa address an anti-Indian rally in Lahore, Pakistan, Sept. 30, 2016.

امریکہ نے بدھ کو کالعدم عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے ’اسٹوڈنٹ ونگ‘ یعنی طلبہ تنظیم کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کی طرف سے لشکر طیبہ پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ اس کے ہاں کئی حملوں میں ملوث رہا، جن میں 2008 میں ممبئی میں ہونے والا حملہ بھی شامل ہے جس میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے 'المحمدیہ اسٹوڈنٹس' کے خلاف تعزیرات کے علاوہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے لشکر طیبہ کے دو راہنماؤں کو " عالمی دہشت گرد قرار دیئے جانے والوں کی فہرست" میں شامل کیا ہے۔

اگرچہ حکومت پاکستان نے 2002 میں لشکر طیبہ پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم امریکی عہدیداروں کے مطابق یہ تنظیم نام بدل کر سرگرم رہی اور اس کے راہنما حافظ سعید عوامی اجتماعات سے خطاب کرنے کے علاوہ انٹرویو بھی دیتے رہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے کہا کہ "غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست میں اب لشکر طیبہ کی طالب علموں کی تنظیم ’اسٹوڈینٹس ونگ‘ کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ خزانہ نے لشکر طیبہ کے دو عہدیداروں، محمد سرور اور شاہد محمود پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے نام "عالمی دہشت گردوں کی فہرست" میں شامل کیے ہیں۔ ان کی امریکہ میں اگر کوئی جائیداد یا اثاثے ہیں تو انہں منجمد کر دیا گیا ہے اور ان افراد سے امریکیوں شہریوں کے لین دین پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں افراد عسکریت پسند تنظیم کے لیے فنڈ جمع کرنے کی سرگرمیوں میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ محمد سرور لاہور میں لشکر طیبہ کا راہنما ہے جب کہ شاہد محمود کراچی میں لشکر طبیہ کا راہنما ہے اور وہ اپنی تنظیم کی طرف سے کئی بار پاکستان سے باہر سفر کر چکے ہیں۔

دریں اثنا پاکستان میں مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکی حکومت کے اس اقدام کے بعد اسلام آباد پر مذکورہ طلبہ تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے سفارتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان پر یہ ذمہ داری تو عائد نہیں ہوتی کہ وہ اس تنظیم کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کرے جیسا کہ امریکہ نے کی۔

"لشکر طیبہ کو پہلے ہی (امریکہ نے) دہشت گرد تنظمیوں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے (اب) اس کی طلبہ کی ذیلی تنظیم کو بھی باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظمیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پاکستان پر بھی دباؤ پڑے گا کہ اگر یہ تنظیم پاکستان میں موجود ہے تو اس کے خلاف بھی حکومت کوئی تادیبی کارروائی کرے۔"

XS
SM
MD
LG