رسائی کے لنکس

پی ایس ایل پاکستانی کرکٹ کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پی ایس ایل کا پہلا ایڈیشن آئندہ سال چار فروری سے دبئی اور شارجہ میں طے ہے جس میں شریک پانچ ٹیموں میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور زمبابوے کے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں کرکٹ کے حلقے پاکستان سپر لیگ "پی ایس ایل" کو ملکی کرکٹ کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں میں بھی صحت مندانہ مسابقت کی فضا پیدا ہو گی۔

پی ایس ایل کا پہلا ایڈیشن آئندہ سال چار فروری سے دبئی اور شارجہ میں طے ہے جس میں شریک پانچ ٹیموں میں انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان اور زمبابوے کے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

ٹیموں کے لیے کھلاڑیوں کے انتخاب کا مرحلہ رواں ہفتے کے اوائل میں مکمل ہوا۔ ان ٹیموں میں پشاور زلمے، کراچی کنگز، لاہور قلندرز، کوئٹہ گلیڈیئٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ شامل ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سالوں سے اس لیگ کو عملی شکل دینے کا جو ایک مشکل مرحلہ تھا وہ خاصی کامیابی سے کسی حد تک مکمل تو ہو گیا ہے لیکن اب بھی بہت سے شکوک و شبہات ہیں جو سر اٹھا رہے ہیں۔

کھیلوں کے صحافی اور تجزیہ کار آفتاب وڑائچ کہتے ہیں کہ "شکوک و شبہات یہ ہیں کہ شاید پاکستان مخالف عناصر اسے ناکام بنانے کی کوشش کریں۔ اگر یہ لیگ ہوتی ہے تو میں پورے وسوخ سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں نوجوان کھلاڑیوں کو اس سے ترغیب ملے گی۔۔۔ یہ پاکستان کی کرکٹ میں ایک بہت مثبت اور انقلابی تبدیلی لے کر آئے گی۔"

ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ بھارتی ٹیم کا دورہ آسٹریلیا 31 جنوری کو مکمل ہو رہا ہے اور وہ سری لنکا کے ساتھ ایک سیریز اسی دوران طے کر رہا ہے جب پی ایس ایل کے مقابلے جاری ہوں گے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ سری لنکا کے صرف دو ہی کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں جگہ ملی ہے۔

کرکٹ کے معروف مبصر احتشام الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس طرح کی لیگز کے دیگر مقابلوں میں بہت سے اسکینڈلز بھی سامنے آئے ہیں لہذا پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اس کی انتظامیہ کو انتہائی چوکس رہنا ہو گا۔

"ان میں ایسے ایسے بدعنوانی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ میں جو کچھ وہاں کی سپریم کورٹ کو اس میں دخل دینا پڑا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری چیزیں پی ایس ایل کے جو منتظمین ہیں انھیں ذہن میں رکھنی چاہیئں کہ پاکستان کسی ایسی منفی بات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔"

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن پاکستان میں ہی منعقد کروایا جاتا تو اس سے پاکستان میں کرکٹ کے فروغ اور بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کے لیے بے پناہ مدد مل سکتی تھی۔

پی ایس ایل کے منتظمین یہ کہہ چکے ہیں کہ آئندہ آنے والے سالوں میں یہ مقابلے پاکستان میں ہی منعقد کروائے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG