رسائی کے لنکس

سپر ماڈل خود پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی آئی ہیں کہ پانچ لاکھ ڈالر کی رقم کے ساتھ سفر کا ارادہ نادانستہ طور پر اور ان کے بقول اس بارے میں قانون سے لاعلمی کی بنیاد پر ہوا۔

پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم بیرون ملک منتقل کرنے کے الزام میں گرفتار سپر ماڈل ایان علی کو جمعرات کی سہ پہر اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہا کر دیا گیا۔

منگل کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی طرف سے دائر درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن دیگر قانونی تقاضے پورا کرنے میں وقت صرف ہونے کی وجہ سے سپر ماڈل کی رہائی جمعرات کو ممکن ہو پائی۔

14 مارچ کو ایان علی اسلام آباد سے دبئی کے لیے روانہ ہونے والی تھیں کہ ہوائی اڈے پر ان کے سامان سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر کی رقم برآمد ہوئی۔ ملکی قوانین کے تحت کوئی شخص دس ہزار ڈالر سے زائد رقم اپنے ساتھ بیرون ملک نہیں لے جاسکتا۔

رقم برآمد ہونے پر انھیں گرفتار کر کے تفتیش شروع کی گئی اور اس دوران چار مرتبہ ملزمہ کی ضمانت کے لیے دائر درخواستوں کو عدالت نے مسترد بھی کردیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ میں ایان علی کے وکیل کا موقف تھا کہ اب چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے لہذا قانون کے مطابق ان کی موکلہ کو ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقدمے میں فرد جرم کی کارروائی 27 جولائی کو ہوگی۔

چھ سالوں کے فنی کریئر میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی 22 سالہ ماڈل ایان علی کی گرفتاری سے لے کر چار ماہ بعد ضمانت پر رہائی تک پاکستانی ذرائع ابلاغ پر اس معاملے کا خوب چرچا رہا جب کہ سوشل میڈیا پر بھی آئے روز نت نئی بحث چھڑتی رہی۔

تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ رواں سال گرفتاری تک ایان علی ایک درجن سے زائد مرتبہ متحدہ عرب امارات کا سفر چکی تھیں اور تفتیش کاروں کے مطابق انھیں یہ شبہ ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی رقوم بیرون ملک منتقل کرچکی ہوں گی۔

تاہم سپر ماڈل خود پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی آئی ہیں کہ پانچ لاکھ ڈالر کی رقم کے ساتھ سفر کا ارادہ نادانستہ طور پر اور ان کے بقول اس بارے میں قانون سے لاعلمی کی بنیاد پر ہوا۔

ماڈلنگ کے علاوہ گزشتہ سال ہی ایان علی بطور گلوکارہ بھی منظر عام پر آئی تھیں اور ان کا میوزک وڈیو بھی مختلف تنازعات کا شکار ہو کر ذرائع ابلاغ میں موضوع بحث رہا۔

XS
SM
MD
LG