رسائی کے لنکس

وفاقی سیکرٹری سہیل احمد کی بحالی کا حکم


وفاقی سیکرٹری سہیل احمد کی بحالی کا حکم

وفاقی سیکرٹری سہیل احمد کی بحالی کا حکم

گزشتہ سال حج انتظامات میں مبینہ بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے چھ رکنی بنچ نے کی جس میں اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے ایک افسر کے تبادلے اور عدالتی حکم پر عمل کرنے والے وفاقی سیکرٹری سہیل احمد کواُن کے عہدے سے ہٹانے پر سرکاری موقف سنا گیا۔

اس موقع پر عدالت نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سہیل احمد کو او ایس ڈی یا افسر بکار خاص بنانے کے احکامات کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ سات دن میں مذکورہ افسر کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور عہدے پر تعینات کیا جائے بصورت دیگر سہیل احمد کو او ایس ڈی بنانے کا فیصلہ کالعدم تصور کیا جائے گا۔

سہیل احمد نے رواں ہفتے عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایک اعلیٰ افسر حسین اصغر کو حج انتظامات میں بدعنوانی کی تحقیقات کی ذمہ داری دوبارہ سونپنے کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس پر حکومت نے اُنھیں او ایس ڈی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے قواعد و ضوابط کے مطابق مشاورت کا عمل مکمل نہیں کیا اور گریڈ بیس یا اس سے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران کے تبادلے کا حق وزیراعظم کے پاس ہے۔

سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ بلاشبہ وفاقی حکومت کے افسران کی تعیناتی اور تبادلے کا اختیار وزیراعظم کو حاصل ہے لیکن عدالت ان فیصلوں کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے اس سے قبل وزیراعظم گیلانی سے سہیل احمد کو افسر بکار خاص بنانے کی تحریری وضاحت طلب کی تھی اور وفاقی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اُنھیں فوری طور پر بحال کرے جس کے بعد ناقدین کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جارہا تھا کہ یہ معاملہ حکومت اور عدلیہ کے مابین محاذ آرائی کا سبب بن سکتا ہے۔

لیکن سپریم کورٹ کے سینئیر وکیل جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عدالت کے حکم نامے سے صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ ”میں تو اسے بہت مثبت سمجھتا ہوں کیوں کہ جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا اُن میں کمی آئی ہے۔ اچھے کی اُمید رکھنی چاہیئے۔“

اٹارنی جنرل انوار الحق نے بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے مختصر گفتگو میں عدالتی حکم نامے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے۔ گذشتہ سال حج انتظامات میں بدعنوانی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کا از خو د نوٹس لیا تھا۔ حکمران پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیرمذہبی اُمور حامد سعید کاظمی انھی الزامات کی بنیاد پر زیرحراست ہیں۔

XS
SM
MD
LG