رسائی کے لنکس

عدالت عظمیٰ نے مولانا لدھیانوی کی کامیابی کو کالعدم قرار دے دیا


مولانا احمد لدھیانوی (فائل فوٹو)

مولانا احمد لدھیانوی (فائل فوٹو)

الیکشن ٹربیونل نے اپریل 2014ء میں شیخ اکرم کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے مولانا احمد لدھیانوی کی کامیابی کا نوٹس جاری کر دیا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جھنگ سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے شیخ اکرم کی رکنیت بحال کر دی ہے۔

مئی 2013ء کے عام انتخابات میں حلقہ این اے 89 جھنگ سے شیخ اکرم کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کے حریف مولانا لدھیانوی نے ان پر انتخابات کے لیے جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے اور شناختی کارڈ میں ردوبدل کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا گیا تھا۔

الیکشن ٹربیونل نے اپریل 2014ء میں شیخ اکرم کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے مولانا احمد لدھیانوی کی کامیابی کا نوٹس جاری کر دیا۔

اس فیصلے کے خلاف شیخ اکرم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی تھی جس پر گزشتہ دسمبر میں فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

بدھ کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے شیخ اکرم کی رکنیت بحال کرنے اور احمد لدھیانوی کی کامیابی کو کالعدم قرار دے دیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2002ء میں سپاہ صحابہ نامی تنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد اہلسنت والجماعت وجود میں آئی تھی لیکن اس پر بھی 2012ء میں پابندی عائد کر دی گئی۔

اسی بنا پر مولانا احمد لدھیانوی نے متحدہ دینی محاذ کی طرف سے انتخاب میں حصہ لیا۔

XS
SM
MD
LG