رسائی کے لنکس

وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق سپریم کورٹ نے درخواستیں مسترد کر دیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کو مسترد قرار دینے کا فیصلہ تحریک انصاف کے لیے ایک دھچکا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے لارجر بینچ نے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے متعلق دائر تمام درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

منگل کو چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بینچ نے اس ضمن میں دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔ یہ درخواستیں مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، تحریک انصاف کے ایک رہنما اسحاق خاکوانی اور تحریک انصاف ہی کے وکلا فورم کے گوہر نواز سندھو نے دائر کی تھیں۔

درخواست گزار اسحاق خاکوانی کے وکیل عرفان قادر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والی جماعتوں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا احتجاج ختم کرانے کے لیے وزیراعظم نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کو کردار ادا کرنے کا کہا تھا لیکن درخواست گزار کے وکیل کے بقول بعد ازاں وزیراعظم نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس سلسلے میں غلط بیانی کی۔

اسحاق خاکوانی کے وکیل کا موقف تھا کہ اسی مبینہ غلط بیانی کی بنیاد پر وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے، اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والی جماعتوں کے قائدین عمران خان اور طاہر القادری کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ایک بیان میں کہا تھا کہ فوج نے نا تو مصالحت کار کا کوئی کردار مانگا اور نا ہی اُنھوں نے فوج سے ایسی کوئی درخواست کی۔

تاہم اُسی روز فوج کے ترجمان کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے فوج کے سربراہ کو ’سہولت کار‘ کا کردار ادا کرنے کو کہا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج نے حکومت سے مشاورت کے بعد ہی یہ بیان جاری کیا تھا اور ان کے بقول اس سے حکومت کے موقف ہی کی تائید ہوتی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ کیا اُن کے پاس فوج کے سربراہ کا کوئی بیان حلفی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ وزیر اعظم کا بیان جھوٹ پر مبنی تھا۔

حکمران جماعت کے قانون سازوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے جب کہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کو مسترد قرار دینے کا فیصلہ تحریک انصاف کے لیے ایک دھچکا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تحریک انصاف کا دھرنا اب بھی جاری ہے جب کہ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری یہ کہہ کر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں کہ اب وہ ملک گیر احتجاجی مہم چلائیں گے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان مئی 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی بنیاد پر وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی عدالت عظمٰی ملک میں مئی 2013ء کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے سے متعلق درخواستوں کو نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG