رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں کے خلاف درخواستیں، معاملہ چیف جسٹس کو بھیج دیا گیا


عدالت عظمیٰ

عدالت عظمیٰ

ایک روز قبل وفاق کی طرف سے اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ میں جواب پیش کیا تھا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ شدت پسندی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس فوجی عدالتوں کے قیام کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے حال ہی میں پارلیمان سے منظور ہونے والی اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ کی تشکیل کا معاملہ چیف جسٹس ناصر الملک کو بجھوا دیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت عظمٰی کے تین رکنی بنیچ نے فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواستوں کی منگل کو سماعت کی۔

فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف سب سے پہلے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی تھی۔

منگل کو سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ بار کے وکیل حامد خان نے عدالت عظمٰی کے بینچ سے استدعا کی کہ یہ ایک حساس اور اہم معاملہ ہے اس لیے اس کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔

تین رکنی بینچ نے یہ استدعا منظور کرتے ہوئے لارجر بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بجھوا دیا۔

مقدمے کی سماعت اب غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

وکلا برادری کی اکثریت اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوجی عدالتوں کے قیام کی یہ کہہ کر مخالفت کرتی آ رہی ہیں کہ اس سے ملک میں ایک متوازی نظام انصاف قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس تشکیل کی بجائے اگر موجودہ نظام عدل کو موثر اور بہتر بنایا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

ایک روز قبل وفاق کی طرف سے اٹارنی جنرل نے عدالت عظمیٰ میں جواب پیش کیا تھا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ شدت پسندی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت کے پاس فوجی عدالتوں کے قیام کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

وفاق نے اپنے جواب میں کہا کہ 21 ویں ترمیم میں فوجی عدالتیں صرف دو سال کے لیے قائم کی جا رہی ہیں اور مخصوص حالات میں بنیادی انسانی حقوق کو مختصر کیا جا سکتا ہے اور حالات کی بہتری پر یہ حقوق بحال کیے جا سکتے ہیں۔

مزید برآں وفاق کے بیان میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ فوجی عدالتوں کے قیام سے درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہو رہے لہذا ان درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کیا جائے۔

حکومتی عہدیدار بھی یہ کہتے آ رہے ہیں کہ پاکستان کو درپیش مخصوص حالات میں دہشت گردی و انتہا پسندی سے نمٹںے کے لیے یہ اقدام از حد ضروری تھا۔

وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ 21 ویں ترمیم کے نافذ العمل ہونے سے انتہا پسندی سے نمٹنے میں قابل ذکر حد تک مدد ملے گی۔

"یہ جو ہمارے بچوں کو خون میں نہلایا جا رہا ہے، اسکولوں میں جانے سے لوگ خوفزدہ ہیں، عوام خوف و ہراس کا شکار ہو گئی ہے۔ معاشی سرگرمیوں پر برے اثرات پڑے ہیں تو ان ساری چیزوں سے نمٹنے کے لیے 21 ویں ترمیم ہے اور امید ہے کہ اس کے نافذ العمل ہونے کے بعد قانون کی بالادستی جس میں تھوڑا ضعف تھا وہ جب مکمل طور پر بالادست ہو جائے گا تو پھر۔۔۔۔انتہا پسندی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔"

اس وقت ملک میں نو فوجی عدالتیں قائم کی جاچکی ہیں جن میں وفاقی حکومت کی طرف سے ایک درجن سے زائد مقدمات سماعت کے لیے بھیجے جا چکے ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان عدالتوں میں پیش ہونے والے ملزموں کو قانون کے مطابق اپنی صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG