رسائی کے لنکس

بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول 10 مارچ کو پیش کرنے کا حکم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے حکم کی پیروی نہ کرنے پر وزیراعظم کو توہین عدالت کے اظہار وجوہ کا نوٹس دیے جانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

الیکشن کمیشن نے پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے مشروط طور پر 20 ستمبر کی تاریخ متعین کرنے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا ہے جب کہ خیبر پختونخواہ اور کنٹونمنٹ بورڈز کے لیے پیش کردہ انتخابی شیڈول کو سپریم کورٹ نے منظور کر لیا ہے۔

بلدیاتی انتخابات سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کرنے والے عدالت عظمیٰ کے ایک تین رکنی بینچ کے سامنے جمعہ کو الیکشن کمیشن نے موقف پیش کیا کہ اگر پرنٹنگ کارپوریشن جس نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کرنی ہے، اسے دو نئی مشینیں فراہم کر دی جائیں تو 20 ستمبر کو پنجاب اور سندھ میں الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔

عدالت عظمیٰ نے اس بارے میں تحریری طور پر شیڈول آئندہ منگل کو بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

جمعرات کو جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں قائم بینچ کے سامنے اٹارنی جنرل نے شیڈول پیش کیا تھا جس کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ میں 25 اپریل کو جبکہ خیبر پختونخواہ میں 30 مئی کو مقامی حکومتوں کے انتخابات کی تاریخ طے کی گئی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سندھ میں ڈویژن کی سطح پر جب کہ پنجاب میں اضلاع کی سطح پر تین مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے جو کہ 30 ستمبر، چار نومبر اور نو دسمبر کو ہوں گے۔

تاہم عدالت عظمیٰ نے اس شیڈول کو مسترد کر دیا تھا۔

ملک میں سوائے صوبہ بلوچستان کے کسی بھی صوبے میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ہیں۔

سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کنٹونمنٹ علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے حکم کی پیروی نہ کرنے پر وزیراعظم کو توہین عدالت کے اظہار وجوہ کا نوٹس دیے جانے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

بدھ کی صبح ہونے والی سماعت میں بینچ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو رات آٹھ بجے تک کا وقت دیا تھا کہ وہ شیڈول تیار کر کے عدالت میں پیش کرے۔

لیکن رات کو پیش کیے گئے شیڈول کو بھی عدالت نے مسترد کردیا۔

عوام کی فلاح اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مقامی حکومتوں کا نظام جمہوریت میں ایک اہم حیثیت کا حامل ہے لیکن پاکستان میں گزشتہ آٹھ برسوں سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے ہیں۔

ان کی بنیادی وجوہات میں صوبوں کی طرف سے اس ضمن میں قانون سازی میں تاخیر بتائی جاتی ہے جسے مبصرین ایک غیر صحت مندانہ امر اور سیاسی عزم کی کمی قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG