رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ دونوں مجرموں نے نہ تو اپنی پہلی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کیں اور نہ ہی اپیلٹ کورٹ نے فیصلے سے پہلے اُن کا موقف سُنا اس لیے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے سابق صدر اور پاکستان آرمی کے سربراہ پرویز مشرف پر حملے کے دو مجرمان کی سزائے موت کو ختم کرتے ہوئے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ فوجی عدالت نے سزائیں سناتے وقت قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا تھا۔

2005ء میں فوج کی ایک ایپلٹ کورٹ نے عامر سہیل اور رانا نوید نامی دو مجرموں کی عمر قید کی سزاؤں کو بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کر دیا جس کے خلاف انہوں نے عدالت اعظمیٰ میں نظرثانی کی اپیل دائر کی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ دونوں مجرموں نے نہ تو اپنی پہلی سزاؤں کے خلاف اپیلیں دائر کیں اور نہ ہی اپیلٹ کورٹ نے فیصلے سے پہلے اُن کا موقف سُنا اس لیے سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

وکیل صفائی حشمت حبیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو اس فیصلے کو اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’سپریم کورٹ اور دیگر عدالتیں عام طور پر ایسے مقدمات کو یہ کہہ کر نہیں سنتیں کہ فوجی عدالتوں کے معاملات میں مداخلت ان کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ مگر ہم نے ثابت کیا کہ اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ بلا اختیار سنایا گیا۔‘‘

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل شعیب شاہین کہتے ہیں کہ 18 ویں ترمیم میں ہر شخص کو شفاف طریقہ کار کے تحت اپنی صفائی پیش کرنے کا حق حاصل ہے اور اس پر عمل درآمد نہ ہونا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس ترمیم کے پیش نظر ان کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں تبدیلی کی جانی چاہیئے۔

’’اس فیصلے اور ترمیم سے شفافیت آئے گی۔ فوجی عدالتوں میں حقوق انسانیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوگی۔ اس ترمیم کے بعد وہ پابند ہوں گے کہ آرمی ایکٹ کو اس ترمیم کے مطابق بنائیں ورنہ فوجی عدالت کے کوئی بھی ایسے فیصلے کالعدم قرار دیے جاتے رہیں گے۔‘‘

دسمبر 2003ء میں پرویز مشرف پر راولپنڈی چھاؤنی کے علاقے میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں سابق صدر تو محفوظ رہے مگر اس واقعے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ دو سال کے بعد اٹک شہر میں ایک فوجی عدالت نے اس حملے میں ملوث نو افراد میں سے پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی تھی جن میں رانا نوید اور عامر سہیل شامل نہ تھے۔

عدالت اعظمیٰ پہلے ہی ان پانچ مجرموں کی سزاؤں پر نظر ثانی کی اپیلیں مسترد کر چکی ہے۔
XS
SM
MD
LG