رسائی کے لنکس

تبدیلی مذہب کے لیے دباؤ قانونی و مذہبی طور پر جائز نہیں: عدالت عظمیٰ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

طالبان نے کالاش قبیلے کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بصورت دیگر ان کے خلاف مسلح کارروائیاں کی جائیں گی۔

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے شمالی علاقے چترال میں اسماعیلی فرقے اور کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والوں کو طالبان کی طرف سے دھمکیوں کا از خود نوٹس لیتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جمعرات کو اس معاملے کی ابتدائی سماعت کے دوران کہا کہ کسی بھی غیر مسلم کو تبدیلی مذہب پر مجبور کرنا یا مذہبی رسومات سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالنا قانونی اور مذہبی طور پر جائز نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔

رواں ماہ کے اوائل میں طالبان نے ایک ویب سائٹ پر دھمکی آمیز وڈیو جاری کی تھی جس میں کالاش قبیلے کے لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ بصورت دیگر ان کے خلاف مسلح کارروائیاں کی جائیں گی۔

اس وڈیو پیغام میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں بشمول آغا خان فاؤنڈیشن کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔

جمعرات کو سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ لطیف یوسفزئی نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ یہ دھمکیاں سرحد پار افغانستان کے علاقے نورستان سے دی گئیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ان دھمکیوں کے بعد ان لوگوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور انھوں نے اس بارے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے آئندہ ہفتے تک تحریری جواب طلب کیا۔

چترال اور شمالی علاقے میں اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والی آغا خان فاؤنڈیشن ایک درجن سے زائد اسکولوں اور کالجوں میں مفت تعلیم فراہم کر رہی ہے۔ کالاش قبیلہ پرامن اور غیر مسلم لوگوں پر مشتمل ہے۔
XS
SM
MD
LG