رسائی کے لنکس

الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرنے کا حکم


سپریم کورٹ آف پاکستان

سپریم کورٹ آف پاکستان

غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کے اتنخابات میں تاخیر جہاں سیاسی عزم کی کمی کو ظاہر کرتی ہے وہیں اس بارے میں عدالتی دباؤ بھی کچھ اتنا صحت مندانہ اقدام بھی معلوم نہیں ہوتا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کا شیڈول بدھ کی رات آٹھ بجے تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ملک میں کنٹونمنٹ بورڈز کے زیر انتظام علاقوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کروانے کے عدالتی حکم کی تعمیل نہ کیے جانے پر وزیراعظم کو توہین عدالت سے متعلق اظہار وجوہ کا نوس جاری کرنے کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیا۔

الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکرٹری نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ موجودہ قوانین کے تحت الیکشن کمیشن کنٹونمنٹ میں انتخابات کرانے کا اختیار نہیں رکھتا اور اگر ترمیم شدہ کنٹونمنٹ بورڈ آرڈیننس جاری ہو جائے تو ہی وہ انتخاب کروا سکتے ہیں۔

اٹارنی جنرل سلمان اسلم نے بینچ کو بتایا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق 48 گھنٹوں میں قانون سازی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کام پانچ سال میں نہیں ہوا وہ 48 گھنٹوں میں ہونے کا یقین کیسے کر لیا جائے اور اس سے قبل بھی عدالت سے کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس دینے سے ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔ ان کے بقول توہین عدالت کے نوٹسز سے جمہوریت غیر مستحکم نہیں ہوتی۔

بینچ نے حکم دیا کہ رات آٹھ بجے تک مقامی حکومتوں کے انتخابات کا شیڈول پیش کیا جائے اور اگر عدالت اس سے مطمیئن ہوئی تو مقدمے کی سماعت جمعرات کو ہوگی وگرنہ رات کو ہی یہ سماعت دوبارہ شروع کی جائے گی۔

کنٹونمنٹ بورڈز وزارت دفاع کے ماتحت ہوتے ہیں اور وہ ہی یہاں انتخابات کروانے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ انتخابات نہ کروائے جانے کی وجہ سے عدالت نے دو سال قبل اس وقت کے سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور چونکہ اس وقت وزارت دفاع کا قلمدان وزیراعظم نواز شریف کے پاس تھا تو ان کے خلاف بھی ایسا ہی نوٹس جاری کرنے کے لیے ایک درخواست دائر کی گئی۔

تاہم بعد میں وزیراعظم نے وزارت دفاع کا اضافی چارج پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے سپرد کر دیا تھا۔

ملک میں بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی انتخابات کا عمل مکمل ہو چکا ہے جب کہ گزشتہ ماہ ہی الیکشن کمیشن نے دیگر تین صوبوں کے لیے شیڈول جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ خیبرپختونخواہ میں یہ الیکشن رواں سال مئی میں جب کہ پنجاب میں نومبر میں ہوں گے۔ سندھ میں یہ انتخابات آئندہ سال مارچ میں منعقد کروانے کا بتایا گیا لیکن ان تینوں صوبوں میں انتخابات کی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی تھی۔

غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کے اتنخابات میں تاخیر جہاں سیاسی عزم کی کمی کو ظاہر کرتی ہے وہیں اس بارے میں عدالتی دباؤ بھی کچھ اتنا صحت مندانہ اقدام بھی معلوم نہیں ہوتا۔

پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والی ایک موقر غیرسرکاری تنظیم "پلڈاٹ" کے سرابرہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔

"بلدیاتی انتخابات کے لیے سپریم کورٹ پچھلے کئی سالوں سے کہہ رہی ہے اور یہ الیکشن کسی نہ کسی وجہ سے ہو نہیں پا رہے اب سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن پر اتنا دباؤ ڈالنا یہ بھی کوئی مناسب بات نہیں لگتی کیونکہ الیکشن کمیشن بھی بہرحال ایک ذمہ دار ادارہ ہے اگر کوئی رکاوٹیں ہیں تو وہ ہیں حکومت کی طرف سے۔ تو اس سارے عمل میں مجھے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سبکی ہوگی اور وہ کمزور ادارے کی حیثیت سے سامنے آئے گا جو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی اچھی چیز ہے۔"

صوبائی حکومتوں کا موقف رہا ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کروانے کی خواہاں ہیں لیکن اس سےقبل حلقہ بندیوں سمیت قانون سازی کے امور طے ہونا ضروری ہیں جن پر ہنوز کام جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG