رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ: ڈرون حملے رکوانے سے متعلق درخواست مسترد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تاہم جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینج نے دلائل سننے کے بعد درخواست کو نمٹا دیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ایسے حملے بند کروانے کے لیے جنگ کے احکامات جاری نہیں کر سکتی۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے رکوانے سے متعلق ایک درخواست خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

اسلام آباد کے ایک رہائشی سید محمد اقتدار نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر ڈرون حملوں کو نہ رکوایا گیا تو مستقبل میں ایسے حملوں کا دائرہ ملک کے شہری علاقوں تک بھی بڑھ سکتا ہے۔

تاہم جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے دو رکنی بینج نے دلائل سننے کے بعد درخواست کو نمٹا دیا اور اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت ایسے حملے بند کروانے کے لیے جنگ کے احکامات جاری نہیں کر سکتی۔

اتوار کو شمالی وزیرستان کے علاقے شوال میں بھی ایک تازہ ڈرون حملے میں کم از کم سات مشتبہ شدت پسند مارے گئے ہیں جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا جاتا ہے۔

پاکستان کی حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ ان حملوں کو بند کیا جائے کیوں کہ ان بنیاد پر شدت پسند عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حکومت ایسے حملوں کو ملک کی سالمیت اور سرحدی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں ڈرون حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

امریکہ انسداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈرون کو ایک اہم ہتھیار گردانتا ہے اور حالیہ برسوں میں وزیرستان اور پاکستان کے دیگر قبائلی علاقوں میں ڈرون میں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہوں سمیت امریکہ کو مطلوب بہت سے شدت پسند مارے جا چکے ہیں، جو ایسے حملوں کی ایک کامیابی ہے۔

پاکستان نے بھی دہشت گردوں کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے شمالی وزیرستان میں گزشتہ سال جون سے ’ضرب عضب‘ کے نام سے بھرپور فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے اور عسکری حکام کے مطابق بیشتر علاقے کو شدت پسندوں سے صاف کروا لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG