رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ نے ہفتہ کو ہی چاروں صوبوں اور مرکز سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے رواں ماہ ایک مسیحی جوڑے کو توہین مذہب کے الزام میں ایک ہجوم کی طرف سے تشدد کر کے آگ میں پھینک کر ہلاک کرنے کے واقعے کا از خود نوٹس لیا ہے۔

ہفتہ کو چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب کی صوبائی حکومت سے تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا۔

چار نومبر کو ضلع قصور کے علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے مسیحی جوڑے کو اینٹوں کے بھٹے میں جلتی آگ میں پھینک دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے قرآن کے صفحات کو نذر آتش کیا۔ ہجوم نے ان افراد کو آگ میں پھینکنے سے پہلے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔

توہین مذہب کے الزام میں مشتعل ہجوم کی طرف سے اس طرح کی کارروائی ملک میں کوئی پہلی بار نہیں ہوئی لیکن اس تازہ واقعے سے ایک بار پھر توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے قانون سازی کے مطالبات نے زور پکڑا ہے۔

پولیس نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی میاں بیوی کے ہلاکت کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث 40 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

اس واقعے کا وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی نوٹس لے کر حکام کو اس واقعے میں ملوث افراد کا تعین کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا حکم دے رکھا ہے۔

سپریم کورٹ نے ہفتہ کو ہی چاروں صوبوں اور مرکز سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کا کہا۔

عدالت عظمیٰ نے رواں سال ہی حکم دیا تھا کہ ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فورس تشکیل دی جائے اور حکومت ایسے اقدامات کرے جن کی بنا پر سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنا کر مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

XS
SM
MD
LG