رسائی کے لنکس

الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ معطل، سعد رفیق کی رکنیت بحال


خواجہ سعد رفیق (فائل فوٹو)

خواجہ سعد رفیق (فائل فوٹو)

پیر کو عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل کی ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اس مقدمے سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی اور بے قاعدگیوں کے الزامات کی سماعت کرنے والے ’الیکشن ٹریبونل‘ کے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے جس میں لاہور سے قومی اسملبی کے حلقہ 125 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ 155 میں انتخابات کو کالعدم قرار دے کر وہاں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کے اس حلقے سے 2013ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق منتخب ہوئے تھے، جو موجودہ حکومت میں بطور وزیر ریلوے کام کر رہے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق نے الیکش ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا۔ عدالت میں اس معاملے کی سماعت کے بعد خواجہ سعد رفیق نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت عارضی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔

حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کے رہنما حامد خان جنہوں نے خواجہ سعد رفیق کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا تھا، اُنھوں نے حلقہ 125 کے نتائج کو الیکشن ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا۔

حامد خان کا موقف تھا کہ اس حلقے میں انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا اور انھوں نے الیکشن ٹریبونل سے انتخاب کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی۔

انتخابی عملے کی طرف سے بے ضابطگیوں کے شواہد کی بنا پر گزشتہ ہفتے الیکشن ٹریبونل نے خواجہ سعد رفیق کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 60 روز میں اس حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔

پیر کو عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے خواجہ سعد رفیق کی اپیل کی ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اس مقدمے سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

پاکستان میں 2013ء کے انتخاب کو دو سال ہو گئے ہیں تاہم ان انتخابات کے نتائج کے بارے میں حکومت اور حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا الزام ہے کہ ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کا ارتکاب کیا گیا، لیکن حکومت ایسے الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے۔

گزشتہ ماہ حکومت اور تحریک انصاف نے انتخابات میں دھاندلی الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام پر اتفاق کیا، جو ان دنوں اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG