رسائی کے لنکس

مصطفیٰ کانجو کی رہائی پر چیف جسٹس کا از خود نوٹس


سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

شائع شدہ اطلاعات کے مطبق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ کانجو کو رہا کرنے کے فیصلے سے قبل عدالت میں تمام گواہان بشمول مدعی اپنے بیان سے منحرف ہو گئے تھے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ایک سابق وزیر مملکت کے بیٹے کو ایک مقدمہ قتل میں انسداد دہشت گردی کی طرف سے رہا کیے جانے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

سابق وزیر مملکت مرحوم صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو اور ان کے مسلح محافظوں نے مبینہ طور پر یکم اپریل کو لاہور میں ایک نوجوان کو سڑک پر تلخ کلامی کے بعد گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

رواں ہفتے ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر مصطفیٰ کانجو اور ان کے دیگر چار ساتھیوں کو رہا کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ سے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس انور ظہر جمالی نے از خود نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ "اس مقدمے کا تمام ریکارڈ سربہمر لفافے میں بند کر کے انھیں پیش کیا جائے" جس کا وہ جائزہ لیں گے۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے پہلے بھی مختلف معاملات پر از خود نوٹسز لیے جاتے رہے ہیں اور خاص طور پر 2013ء میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی مدت منصب کے دوران بہت سے امور پر ان کی طرف سے نوٹسز لیے جاتے رہے۔

لیکن موجودہ چیف جسٹس کی طرف سے کسی بھی معاملے پر یہ پہلا از خود نوٹس ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطبق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مصطفیٰ کانجو کو رہا کرنے کے فیصلے سے قبل عدالت میں تمام گواہان بشمول مدعی اپنے بیان سے منحرف ہو گئے تھے۔

مقتول کے قریبی رشتے دار اور مقدمے کے مدعی افضل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ جائے وقوع پر دیر سے پہنچے لہذا وہ صحیح طور پر ملزم کو شناخت نہیں کر سکتے۔

XS
SM
MD
LG