رسائی کے لنکس

عدالتوں سے سزائے موت پانے والوں کو پھانسی دیئے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 100 سے زائد مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ منگل کو بھی ملک کی مختلف جیلوں میں سات مجرموں کو پھانسی دی گئی۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی کے تین رکنی بینچ نے ملک میں سزائے موت کے خاتمے کے لیے دائر کی گئی درخواست منگل کو خارج کر دی ہے اور درخواست گزار سے کہا ہے کہ وہ ملک کے قوانین میں تبدیلی کے لیے پارلیمان سے رجوع کریں۔

وطن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بیرسٹر ظفراللہ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ایسے ملک میں جہاں فوجداری نظام غیر مؤثر ہے، سزائے موت بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے بینچ کا کہنا تھا کہ جان اور آزادی کا حق حقِ مطلق نہیں۔

پاکستان میں اس سے قبل کئی حلقوں بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سزائے موت کے خاتمے کے مطالبات سامنے آ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں 2008ء سے سزائے موت پر عملدرآمد پر عارضی پابندی عائد تھی، لیکن گزشتہ سال پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے مہلک حملے میں 134 بچوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد پھانسیوں پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کر دی گئی۔

عدالتوں سے سزائے موت پانے والوں کو پھانسی دیے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک 100 سے زائد مجرموں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

منگل کو بھی ملک کی مختلف جیلوں میں سات مجرموں کو پھانسی دی گئی۔

انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں سزائے موت پر عمل درآمد پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ ملک کو درپیش سنگین حالات کے تناظر میں سزائے موت پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

XS
SM
MD
LG