رسائی کے لنکس

سپریم کورٹ کا ممتاز قادری کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ


ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری (فائل فوٹو)

ممتاز قادری سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھا اور اُس نے گورنر سلمان تاثیر کو جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل پر سزائے موت پانے والے ممتاز قادری کی اپیل خارج کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کو بحال کر دیا ہے۔

ممتاز قادری نے اپنی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ممتاز قادری کی اپیل کی مسلسل تین روز تک سماعت کے بعد بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزا کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔

ممتاز قادری سلمان تاثیر کے سرکاری محافظوں میں شامل تھا اور اُس نے گورنر سلمان تاثیر کو جنوری 2011ء میں اسلام آباد میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ممتاز قادری نے گرفتاری کے بعد اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اُس نے سلمان تاثیر کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ اُنھوں نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی حمایت کی تھی۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے 2011ء میں ممتاز قادری کو دو بار سزائے موت اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

ممتاز قادری نے اس سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر رواں سال مارچ میں عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت ممتاز قادری کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

تاہم فوجداری قانون کی دفعہ 302 کے تحت اُس کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا۔

عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد ممتاز قادری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواست دائر کریں گے۔

سپریم کورٹ کے وکیل راجہ شفقت عباسی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ممتاز قادری اس فیصلے کے خلاف 30 روز میں عدالت عظمیٰ میں نظرثانی کی اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ جب کہ اُسے قانونی طور صدر مملکت سے رحم کی اپیل کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔

شفقت عباسی کا کہنا تھا کہ عدالت نے شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔ ’’کسی بھی شخص کو کسی اور کو ہلاک کرنے کا حق نہیں مل سکتا۔۔۔ اگر کسی کو کسی معاملے پر اختلاف ہو تو وہ قانون سہارا لے۔ ہجوم کی طرف سے از خود فیصلہ کر دینے کے رحجان کی نفی ہوئی ہے۔‘‘

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بھی اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ توہین مذہب کے مرتکب کسی شخص کو اگر لوگ ذاتی حیثیت میں سزائیں دینا شروع کر دیں تو اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے مقدمے کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ اور اس کے اردگرد کی علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت رہی۔

XS
SM
MD
LG