رسائی کے لنکس

ہنگو میں مبینہ امریکی ڈرون حملہ، 5 ہلاک

  • شمیم شاہد

تباہ شدہ مدرسے کے قریب مقامی لوگ جمع ہیں

تباہ شدہ مدرسے کے قریب مقامی لوگ جمع ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تو ڈرون حملوں کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ مشتبہ امریکی ڈرون سے کسی بندوبستی علاقے میں حملہ کیا گیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختون خواہ میں جمعرات کی صبح مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے۔

مقامی حکام کے مطابق جنوبی ضلع ہنگو کی تحصیل ٹل میں بغیر ہوا باز کے جاسوس طیارے سے ایک مدرسے پر چار میزائل داغے گئے جس سے عمارت کے بیشتر حصے تباہ ہو گئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک افغان باشندہ بھی ہے جب کہ بعض اطلاعات کے مطابق القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم حقانی نیٹ کا ایک اہم رکن مولوی احمد جان بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کو بھی اس علاقے میں دیکھا گیا تھا، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ہنگو کی تحصیل ٹل کی سرحدیں قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان کے علاوہ اورکزئی اور کرم ایجنسی سے بھی ملتی ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں تو ڈرون حملوں کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ مشتبہ امریکی ڈرون سے کسی بندوبستی علاقے میں حملہ کیا گیا۔

خیبر پختون خواہ کے صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزاد ملک کے عوام اور جمہوریت کی توہین ہے۔

’’ہنگو ایک سیٹلڈ ایریا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بہت زیادتی ہو رہی ہے اور اس سے پورا ملک غیر محفوظ ہو رہا ہے اور یہ پورے پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ اگر آج ہنگو میں یہ حملہ ہوا ہے تو کل اسلام آباد میں (یا) کسی اور جگہ پر بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا آیا ہے جب کہ بدھ کو وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ امریکہ نے طالبان شدت پسندوں سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

ڈرون حملوں کے خلاف پاکستانی موقف میں اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب رواں ماہ کے اوائل میں شمالی وزیرستان میں ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا اعلان کر رکھا تھا جو اس حملے کے بعد تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

امریکہ ڈرون کو انسداد دہشت گردی کی جنگ میں ایک کارگر ہتھیار قرار دیتا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان کے نئے سربراہ ملا فضل اللہ اور ان کے نائب شیخ خالد حقانی کا تعلق پاکستانی کے بندوبستی علاقوں سے ہے۔

دریں اثناء قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے طورخم میں جمعرات کو کسٹم کے ایک دفتر کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔
XS
SM
MD
LG