رسائی کے لنکس

پاکستان میں مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں نمایاں کمی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستانی فوج کے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل اور دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کامیابی سے جاری کارروائیاں بھی ڈرون حملوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں سال 2015ء میں مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مبینہ امریکی ڈرون حملوں میں ماضی کی نسبت قابل ذکر کمی دیکھی گئی اور پورے سال میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے صرف 13 حملے کیے گئے۔

یہ بات تحقیقاتی صحافت کی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی تنظیم "دی بیورو آف انویسٹیگیٹوو جرنلزم" نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہی جس میں پاکستان سمیت یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

امریکہ نے افغان سرحد سے ملحقہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں 2004ء سے ڈرون طیاروں سے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا اور اس تازہ رپورٹ کے مطابق اس سارے عرصے میں سب سے زیادہ حملے 2010ء میں کیے گئے جن کی تعداد 128 بتائی گئی۔

سال 2014ء میں یہ تعداد 25 تھی لیکن پھر اس میں بتدریج کمی دیکھی گئی۔ تنظیم کے مطابق اس کمی کی ایک وجہ وہ تنقید بھی ہوسکتی ہے جو کہ 2015ء کے اوائل میں افغان سرحد کے قریب واقع شوال نامی علاقے میں کی گئی ڈرون کارروائی میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ایک امریکی اور ایک اطالوی مغوی کی ہلاکت کے بعد اوباما انتظامیہ اور خفیہ ادارے سی آئی اے پر کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال ہونے والی ڈرون کارروائیوں میں 60 سے 85 کے درمیان ہلاکتیں ہوئیں جن میں دو سے پانچ بچے بھی شامل تھے۔

پاکستان ڈرون حملوں کو اپنی جغرافیائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن امریکہ انھیں دہشت گردی کے خلاف ایک موثر ہتھیار تصور کرتا ہے۔

پاکستانی فوج نے جون 2014ء میں شدت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں اب تک 3500 کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے، ان کے سیکڑوں ٹھکانوں کو تباہ کرنے اور نوے فیصد علاقے کو شدت پسندوں سے پاک کرنے کا بتایا جا چکا ہے۔

فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد بھی قبائلی علاقے میں ڈرون کارروائیاں ہوتی رہیں لیکن پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کا سکیورٹی فورسز کے آپریشن سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستانی فوج کے ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل اور دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سکیورٹی فورسز کی شدت پسندوں کے خلاف کامیابی سے جاری کارروائیاں بھی ڈرون حملوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہیں۔

گزشتہ سال ہی پاکستان نے مقامی طور پر تیار کیے گئے ڈرون طیارے "براق" سے شدت پسندوں پر حملہ کر کے تین مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ اس کے بعد رات کی تاریکی میں بھی اس کی کارروائی کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔

بیورو آف انویسٹیگیٹوو جرنلزم کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں 2004ء سے 2015ء کے اواخر تک کل 421 کارروائیاں کی گئیں جن میں مرنے والوں کی تعداد 3989 تک تھی اور ان میں لگ بھگ 965 عام شہری اور 207 تک بچے شامل تھے۔

گزشتہ سال یمن میں کم از کم 21 ڈرون حملے ہوئے جن میں لگ بھگ 103 لوگ مارے گئے جب کہ صومالیہ میں ہونے والے 12 حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 93 تک بتائی گئی۔

XS
SM
MD
LG