رسائی کے لنکس

صوابی میں پولیس کارروائی، چار ’شدت پسند‘ ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوابی کے ضلعی پولیس افسر جاوید اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یہ کارروائی کی۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ صوابی کے ایک پہاڑی علاقے میں چھپے شدت پسندوں سے جھڑپ میں چار عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

جب کہ حکام کے مطابق 10 سے 12 مشتبہ شدت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

صوابی کے ضلعی پولیس افسر جاوید اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر صوابی کے پہاڑی علاقے اجمیر میں چھپے شدت پسندوں کی تلاش کے لیے بدھ کی صبح طلوع آفتاب سے قبل کارروائی کا آغاز کیا گیا، اور اس دوران اُن کی عسکریت پسندوں سے شدید جھڑپ ہوئی۔

پولیس کے مطابق مقابلے میں مارے جانے والے مشتبہ شدت پسندوں کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان تھیں جبکہ کارروائی کے دوران دو دستی بم، ایک کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

اس کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن میں حکام نے 35 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ شدت پسندوں کا تعلق کس تنظیم سے تھا۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں شدت پسند اس سے قبل بھی کارروائی کرتے رہے ہیں۔

اُدھر اطلاعات کے مطابق سیاحتی پہاڑی علاقے سوات میں شدت پسندوں کے حملے میں مقامی امن لشکر کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے ایک بیان اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر بشمول خیبر پختونخوا میں ماہ محرم کے آغاز ہی سے سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے بدترین دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ لیکن گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ کے آغاز کے بعد سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اگرچہ قدرے کمی آئی ہے لیکن اس کے باوجود طالبان کئی مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں۔

گزشتہ ماہ ہی پشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے مقام پر فضائیہ کے ایک اڈے پر طالبان نے منظم حملہ کر کے 25 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا جن میں سے اکثریت فضائیہ کے اہلکاروں کی تھی۔

XS
SM
MD
LG