رسائی کے لنکس

سوات کے نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کا پروگرام


نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جارہی ہے

نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جارہی ہے

حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے جس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکہ کے ساتھ مل کر سوات اور دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں روزگار کے وسائل مہیا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

پاکستان کا سوئیٹزرلینڈ کہلانے والی وادی سوات میں گذشتہ چند سالوں کے دوران دہشت گردوں کی موجودگی کے باعث اس علاقے میں سیاحت کی صنعت سمیت دیگر اقتصادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں جس کی وجہ سے مقامی آبادی بالخصوص نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے وسائل تقریباً ختم ہوگئے تھے ۔

لیکن اب اس علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد جہاں وادی کے بیشتر حصوں میں حکومت کی عمل داری بحال ہو گئی ہے وہیں حکومت اس کوشش میں بھی مصروف ہے کہ سوات اور اس سے ملحقہ علاقوں کے نوجوانوں کو ہنر سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ناصرف اپنے لیے روزگار کے وسائل تلاش کرسکیں بلکہ منفی سرگرمیوں بالخصوص انتہاپسندوں کے ہاتھ بھی نہ لگیں۔ اس سلسلے میں سوات اور مالاکنڈ کے مختلف علاقوں سے 150 نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا جنہیں اب وفاقی دارالحکومت میں سرکاری اخراجات پر کمپیوٹر، جنریٹر اور موبائیل فون کی مرمت کے شعبوں میں تربیت فراہم کی جارہی ہے ۔

یہ تربیت نیشنل ٹریننگ بیورو کے تحت قائم تربیتی مرکز میں فراہم کی جارہی ہے جس کے پرنسپل حسن اقبال نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زیر تربیت نوجوانوں کو ہنرسکھانے کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ اُنھیں معاشرے کا فعال رکن بنایا جائے۔ حسن اقبال نے کہا کہ گذشتہ ایک مہینے سے جاری تربیتی کورس کے مثبت نتائج سامنے آر ہے ہیں۔”میں یقین دلاسکتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی غلط راستے کی طرف نہیں جاسکے گا اور یہ ایک مثبت کردار ادا کریں گے۔ جب ایک بندے کے پاس روزگار ہے اور اُس کے پاس اضافی وقت نہیں تو یقینا وہ کسی ”فضول حرکت میں ملوث نہیں ہوگا۔“

زیر تربیت سید امتیاز عالم کا تعلق سوات کے تجارتی مرکز مینگورہ سے ہے اور وہ کمپیوٹر ہارڈ وئیر ،نیٹ ورکنگ اور مرمت کا کام سیکھ رہے ہیں اُنھوں نے بتایا کہ سوات میں کمپیوٹر سے متعلق مہارت رکھنے والوں کی بہت مانگ ہے اور وہ واپس جاکر اپنے علاقے میں روزگار تلاش کریں گے۔ امتیاز نے بتایا کہ اگر فوج اور دیگر ادارے نوجوان نسل کو اس طرح کی تربیت فراہم کریں، تو اس بات کے امکانات نہیں کہ اُن کے علاقے کے نوجوان منفی سرگرمیوں کی طر ف راغب ہو ں۔ ”وہاں پر بے روزگار ی بھی تھی، جب طالبان آئے تواُنھوں نے سیاحت سے ہونے والی آمدن کا ذریعہ بھی لوگوں سے چھین لیا۔ اب اگر یہ تربیت ہمیں فراہم کی جارہی تو ہم اس سے خوب فائدہ اُٹھائیں گے“۔

سوات کے نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کا پروگرام

سوات کے نوجوانوں کے لیے فنی تربیت کا پروگرام

ہمایوں خان کا تعلق سوات سے ملحقہ مالاکنڈ کے علاقے سے ہے اور اُن کا کہناہے اس طرح کی تکنیکی تربیت سے وہ اور دیگر نوجوان اپنے لیے اندرون اور بیرون ملک روزگار خود تلاش کر سکتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ تکنیکی مہارت کے ساتھ ساتھ، زیرتربیت طالب علموں کو یہ بھی سکھایا جارہا ہے کہ وہ نوکری کے حصول کے لیے انٹرویو کیسے دے سکتے ہیں ۔

حکومت کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کی ایک بڑی وجہ بے روزگاری ہے جس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری بالخصوص امریکہ کے ساتھ مل کر سوات اور دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختون خواہ کے نوجوانوں کو فنی تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اُنھیں روزگار کے وسائل مہیا کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن بالخصوص سوات میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعدوہاں سے 20 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ۔ اب یہ لوگ اپنے علاقوں میں واپس جاچکے ہیں اورمقامی انتظامیہ نے فوج کے تعاون سے سوات میں سیاحت کے دوبارہ فروغ کے لیے ایک امن میلے کا انعقاد بھی کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG