رسائی کے لنکس

مالاکنڈ کے ڈی آئی جی پولیس نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر پولیس کارروائیاں کر رہی ہے اور مشتبہ لوگوں کو حراست میں لے کر عدالتوں میں بھی پیش کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں قدرتی حسن سے مالا مال اور ایک زمانے میں طالبان کے زیر قبضہ رہنے والے علاقے سوات کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز نےغیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو لگا کر وہاں شرپسند عناصر کی تلاش شروع کر رکھی ہے۔

جمعہ کو بھی کانجو اور مٹہ کے مختلف دیہاتوں میں کرفیو نافذ رہا جب کہ پولیس سرچ آپریشن میں مصروف ہے۔

ان کارروائیوں کی وجہ سے حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں مقامی امن کمیٹیوں کے ارکان کو نامعلوم حملہ آوروں کی طرف سے ہدف بنا کر قتل کرنا بتائی جاتی ہے۔ رواں برس اب تک تقریباً 20 ارکان کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن میں پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عبداللہ خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ رواں ہفتے مٹہ اور کبل میں امن کمیٹیوں کے ارکان کے قتل کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد ہی واضح ہوگا کہ آیا یہ واقعات دہشت گردی کے تھے یا کسی ذاتی دشمنی کا شاخسانہ۔

تلاش اور چھاپوں کی جاری کارروائیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ"روز ہمارے آپریشن چل رہے ہیں گرفتاریاں بھی ہو رہی ہیں انھیں عدالتوں میں بھی پیش کیا جارہا ہے اور اسی لیے مالاکنڈ میں امن و امان کی صورتحال بہت بہتر ہے۔"

مالاکنڈ اور سوات میں 2009 ء میں پاکستانی فوج نے ایک آپریشن کرکے یہاں طالبان شدت پسندوں کا تسلط ختم کیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ایک بارپھر یہ قیاس آرئیاں کی جارہی تھیں کہ ان علاقوں میں دہشت گرد دوبارہ منظم ہو رہےہیں۔

تاہم ڈی آئی جی عبداللہ خان نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ" یہ تاثر غلط ہے، روزانہ ہمارا اور فوج کا سرچ آپریشن ہو رہا ہے اور ابھی تک ایسی کوئی بات نہیں کہ عسکریت پسند دوبارہ منظم ہو رہے ہیں۔ دوماہ پہلے ہی ہم نے ایلم کے علاقے کو کلیئر کروایا یہ ہمارے لیے بڑا چیلنج تھا اور اسی وجہ سے سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، مردان، صوابی یہ سب کافی حد تک محفوظ ہو گئے ہیں۔

ادھر شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری ہے جس میں فوج نے جمعرات کو دیر گئے مزید 23 شدت پسندوں کو ہلاک کردیا۔ سرکاری بیان کے مطابق زریوم، اسماعیل خیل اور دتہ خیل کے علاقے میں فضائی کارروائی کی گئی۔

بدھ کو بھی علی الصبح فوج نے فضائی کارروائیوں میں غیر ملکی جنگجوؤں سمیت 40 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور ان کے زیر استعمال پانچ ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا۔

فوج کے مطابق 15 جون سے جاری فوجی کارروائی میں اب تک ایک ہزار سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG