رسائی کے لنکس

سوات: 60 سابقہ شدت پسند ’بحالی مرکز‘ سے رہا

  • شمیم شاہد

ان افراد کو فوج کے بحالی مراکز سے مختلف شعبوں میں فنی تربیت دینے کے بعد رہا کیا گیا۔

پاکستان میں دہشت گردی سے متاثرہ وادی سوات میں فوج کے ایک بحالی مرکز سے فنی تربیت مکمل کرنے والے شورش پسندی میں ملوث 60 افراد کو رہا کر دیا گیا۔

ان افراد کو کالعدم شدت پسندوں تنظیموں کے ساتھ روابط اور ان کی حمایت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

سوات میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک عہدیدار کرنل ذیشان نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان افراد کو تین ماہ کے فنی تربیت کے کورس کی تکمیل کے بعد رہا کیا گیا۔

’’ اس میں لکڑی کا کام، الیکٹریشن، کمپیوٹر پر کام اور کھڈی پر کام کرنے کی تربیت دی گئی جس سے یہ لوگ زندگی میں اپنا روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں گے۔‘‘

پاکستانی فوج نے سوات اور ملحقہ علاقوں میں 2009ء میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن راہ راست کے نام سے ایک بھر پور کارروائی کی تھی جس میں ان کے ٹھکانوں کو تباہ اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتار کیے جانے والے لگ بھگ تین ہزار افراد کے خلاف مختلف عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے جب کہ تقریباً دو ہزار نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں کو مشال اور سباعون کے نام سے قائم بحالی کے مراکز میں داخل کر کے انھیں تعلیم اور فنی تربیت دے کر معاشرے کے فعال اور پرامن شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تاحال 1200 کے قریب نوجوان ان مراکز سے فنی تربیت حاصل کر کے زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG