رسائی کے لنکس

سوات کے قریب پہاڑی علاقے سے تین پولیس اہلکاروں کی لاشیں برآمد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رواں ماہ کے اوائل میں ضلع بونیر میں نا معلوم افراد نے انسداد پولیو کے رضاکاروں کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر د یا ہے۔

پاکستان کے شمالی مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع سوات اور بونیر کے درمیان ایک پہاڑی علاقے سے بدھ کو پولیس کے تین اہلکاروں کی لاشیں ملی ہیں۔

ضلع بونیر کے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس غلام احد خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ایلم نامی پہاڑی علاقے میں منگل کو مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

اُن کے بقول اس کارروائی میں 20 اہلکاروں نے حصہ لیا ، لیکن دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران چار پولیس اہلکار لاپتہ ہو گئے تھے جن میں سے تین کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملیں جب کہ علاقائی تھانے کے انسپکٹر شدید زخمی حالت میں ملے جنہیں پشاور منتقل کر دیا گیا۔

سوات اور بونیر کے درمیانی پہاڑی علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ضلع بونیر میں نا معلوم افراد نے انسداد پولیو کے رضاکاروں کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر د یا ہے۔

سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں پاکستانی فوج نے 2009ء میں طالبان کے خلاف بھرپور آپریشن کیا تھا۔

علاقے سے دہشت گردوں کے قبضے کو جلد ہی ختم کر کے حکومت کی عمل داری بحال کر دی گئی لیکن بعض علاقوں میں اب بھی شرپسند عناصر روپوش ہیں۔

حالیہ مہینوں میں سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں تشدد کے واقعات خصوصاً مقامی امن کمیٹیوں کے ارکان اور پولیس اہلکاروں پر ہلاکت خیز حملوں کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG