رسائی کے لنکس

تفتان واقعے میں ہلاک ہونے والی کی تجہیز و تکفین


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے منگل کو کہا کہ وہ شیعہ زائرین سے درخواست کریں گے کہ آٹھ سو کلومیٹر طویل اس پٹی پر سڑک کے راستے سفر سے گریز کریں۔

ایران سے مقدس مقامات کی زیارت کے بعد پاکستان واپس آنے والے زائرین پر اتوار کو ہونے والے ہلاکت خیز حملے میں مرنے والے 24 میں سے 11 کی تجہیز و تکفین منگل کو شمال مغربی شہر کوہاٹ میں مکمل ہوئی۔

ایران سے واپس آنے والے زائرین کی بسوں پر پاکستانی علاقے تفتان میں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

مرنے والوں میں سے بعض کا تعلق قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے تھا جن کی میتیں پارہ چنار پہنچا دی گئی تھیں۔

اس واقعے کی ذمہ داری سنی انتہا پسند تنظیم جیش الاسلام نے قبول کی تھی۔

سکیورٹی فورسز نے تفتان کے قریبی علاقے اسٹیشن کلی میں شدت پسندوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

اتوار کو ہونے والے اس واقعے سے قبل بھی ایران آنے اور جانے والے شیعہ زائرین پر ہلاکت خیز حملے ہوتے رہے ہیں جن میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

حکومت نے ان زائرین کے حفاظت کے لیے دوران سفر انھیں سکیورٹی بھی فراہم کی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی ایسے ناخوشگوار واقعات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شیعہ زائرین سے درخواست کریں گے کہ آٹھ سو کلومیٹر طویل اس پٹی پر سڑک کے راستے سفر سے گریز کریں۔
XS
SM
MD
LG