رسائی کے لنکس

طاہرالقادری کی واپسی ’قانون کی مرضی سے ہو گی‘: پرویز رشید


وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ طاہر القادری اپنی آمد سے پہلے اپنے کارکنوں کو ان کے بقول اکساتے رہے کہ ان کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کر دیا جائے اور پھر جس طرح ان کے لوگوں نے پولیس کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا یہ مناظر سب نے ٹیلی ویژن پر دیکھے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری اپنی مرضی سے ملک میں آئے ہیں لیکن ان کی یہاں سے واپسی قانون کے مطابق ہو گی۔

منگل کو راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ طاہر القادری اپنی آمد سے پہلے اپنے کارکنوں کو ان کے بقول اکساتے رہے کہ ان کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کر دیا جائے اور پھر جس طرح ان کے لوگوں نے پولیس کے اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا یہ مناظر سب نے ٹیلی ویژن پر دیکھے۔

"ایک سو سے زیادہ پولیس کے جوان ہیں جن کے بازو کی ہڈیوں کو توڑ دیا گیا ہے۔۔ان کے جسم کے اندرونی نازک اعضا پر نشانہ لگا کر انھیں مارا گیا، پیٹا گیا۔۔۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، طاہر القادری اپنی مرضی سے پاکستان آئے ہیں ہم نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی، وہ اپنی خوشی سے آئے ہیں لیکن واپسی ان کی خوشی سے نہیں ہو گی، واپسی قانون کی مرضی سے ہو گی۔"

پیر کو اسلام آباد کے ہوائی اڈے کے باہر پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے انتظامیہ کی طرف سے رکھی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے وہاں تعینات ان پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

اس واقعے میں ایک سو سے زائد اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے تھانوں میں طاہر القادری کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف کار سرکار میں مداخلت، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دہشت گردی کے دفعہ کے تحت پرچے درج کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق 50 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جب کہ دیگر کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

طاہر القادری کے حامی اپنے قائد کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے جانا چاہتے تھے لیکن دبئی سے اسلام آباد پہنچنے والی پرواز کا رخ لاہور کی جانب موڑ دینے سے کارکنان مزید مشتعل ہو گئے۔

حکام کے بقول پرواز کی سمت تبدیل کرنے کا فیصلہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا۔

وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ طاہر القادری جیسے لوگ ملک میں امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں لیکن ان کے بقول ایسے لوگوں کو "قابو کیا جائے گا۔"

ادھر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حکومت کی ایما پر پولیس نے اُن کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

پاکستان عوامی تحریک اور ادارہ منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری کی کینیڈا سے وطن واپسی کے موقع پر پیدا ہونے والی صورتحال پر حزب مخالف کی جماعتیں بھی یہ کہہ کر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں کہ اس سارے معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھایا گیا۔
XS
SM
MD
LG