رسائی کے لنکس

پنجاب میں چھپے طالبان سامنے آنا شروع ہوگئے

  • افضل رحمن

وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وزیر داخلہ رحمن ملک (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ لاہور میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پرحملوں کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اِن کے پیچھے طالبان کی حامی ایسی کالعدم تنظیموں کا ہاتھ ہے جن کے کارکن پنجاب میں چھپے ہوئے ہیں اوراب انھوں نے سامنے آنا شروع کردیا ہے۔

اتوار کو صوبائی دارالحکومت میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں حکومت نے طالبان شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کی ہیں لیکن اب خصوصاََ جنوبی پنجاب میں چھپے ایسے عناصر کی بیخ کنی پر توجہ دی جائے گی جس کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

رحمن ملک نے کہا کہ حکومت نے 29 مذہبی تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے جن سے تعلق رکھنے والے 1700 سے زائد افراد میں سے 729 کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں 20 ہزار سے زائد مدرسے کام کر رہے ہیں جن میں سے چوالیس فیصد پنجاب میں ہیں۔

وزیر داخلہ نے ایک بار پھر کہا کہ کالعدم تنظیمیں جیش محمد، لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں القاعدہ اور طالبان کی مدد کر رہی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار پھیلانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملنے والی خفیہ معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان شدت پسند عناصر کا اگلا ہدف اقلیتی شعیہ برادری ہو سکتی ہے.

جمعہ کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو کے علاقوں میں احمدیوں کی دو بڑی عبادت گاہوں پر حملوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک اور کم ازکم 100 زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس نے ان کارروائیوں میں حصہ لینے والے دو افراد کو گرفتار کررکھا ہے جن میں سے ایک شدید زخمی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں زیر حراست ایک 17 سالہ مبینہ دہشت گرد، جس کا تعلق پنجاب کےایک علاقےسے ہے، نے اعتراف کیا ہے کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی تربیت انھیں شمالی وزیرستان میں دی گئی۔

XS
SM
MD
LG