رسائی کے لنکس

پاکستان میں افغان طالبان راہنماؤں کی گرفتاری کی اہمیت


پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کم از کم سات سرکردہ افغان طالبان کو گرفتار کیا ہے۔اس میں سب سے نمایاں گرفتاری کراچی میں ملا عبدل غنی برادار کی تھی ۔ پاک امریکی تعلقات کے حوالے سے یہ گرفتاریاں بہت اہم ہیں ۔

پاکستان کی طالبان کے خلاف جنگ شمالی قبائلی علاقوں میں جاری ہے۔اسکے ساتھ ساتھ امریکی ڈرونز بھی ان علاقوں میں افغان طالبان کا صفایا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن پچھلے کچھ ہفتوں سے پاکستان نے امریکی انٹیلی جنس کی مدد سے کئی افغان طالبان لیڈرز کو گرفتار کیا ہے۔جس میں ایک مشہور نام عبدل غنی برادار کا ہے۔اس پاک امریکی تعاون کی تصدیق کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس کا کہنا ہے کہ خطے میں یہ بڑی کامیابی باہمی تعاون کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کی لیسا کرٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ تبدیلی صدر اوباما کے درپردہ دباؤ کی وجہ سے ہے۔وہ کہتی ہیں کہ صدر اوباما نے جنرل جیمز جونز کے ذریعے صدر زرداری کو پیغام بھیجا کہ اگر پاکستان افغان طالبان اور دیگر تشدد پسندوں کے خلاف کارروائی کرے تو پاک امریکی تعلقات مزید بہتر ہو سکتے ہیں، اور امریکہ خطے میں پاکستان کی سیکیورٹی بڑھانے میں ہر ممکن مدد دیگا۔

بروکینگز انسٹی ٹیوٹ کے بروس رائیڈل جنہوں نے اوباما کے لیے افغان پالیسی ریویو لکھا تھا کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کے خط کے بعد یہ گرفتاریاں زیادہ تر کراچی میں ہوئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ طالبان لیڈرز کراچی کیوں گئے؟ کیونکہ وہ ڈرونز سے بچنا چاہتے تھے۔ ڈرونز کی وجہ سے شمالی علاقہ جات میں انکی نقل و حمل مشکل ہوگئی تھی۔

لیسا کرٹس کہتی ہیں کے پاکستانی پالیسی میں مکمل تبدیلی کی بات قبل از وقت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستا ن نے ماضی میں بھی القاعدہ کے اہم لیڈروں کو گرفتار کیا تھا جیسے خالد شیخ محمد۔لیکن افغانستان میں لڑنے والے لوگوں کے خلاف کوئی خاص کارروائی نہیں کی۔لیکن اسکے باوجود یہ اہم قدم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حالیہ گرفتاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کے لیے صدر اوباما کی نئی اپروچ کام کررہی ہے لیکن پاکستان میں یہ تبدیلی بتدریج ہوگی۔

XS
SM
MD
LG