رسائی کے لنکس

پاکستانی عدالت نے طالبان کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کے چیلنج کو مسترد کر دیا


پاکستانی عدالت نے طالبان کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کے چیلنج کو مسترد کر دیا

پاکستانی عدالت نے طالبان کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کے چیلنج کو مسترد کر دیا

ایک پاکستانی عدالت نے افغان طالبان کے ایک لیڈر اور دوسرے اعلیٰ سطح کے کمانڈروں کو، جو پاکستان میں زیرِ حراست تھے، کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کی مخالفت میں جو اپیل دائر کی گئی تھی، اسے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستانی حکام نے اس سال کے اوائل میں کم سے کم چار افغان طالبان لیڈروں کو گرفتار کیا ہے جن میں اس گروپ کا دوسرے نمبر پر اہم ترین لیڈر ملا عبدالغنی برادر شامل ہے۔

افغان حکومت نے پاکستانی حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان زیر حراست افراد کو افغانستان کے حوالے کر دے۔

لیکن پاکستانی انٹیلی جینس کے ایک سابق عہدیدار خالد خواجہ نے، جو بعد میں انسانی حقوق کے علم بردار بن گئے تھے، عدالت میں اپیل دائر کی تھی کہ ان افراد کو افغانستان کے حوالے نہ کیا جائے۔

خواجہ کے وکلا نے کہا ہے کہ عدالت نے منگل کے روز اس درخواست کو مسترد کر دیا کیونکہ خواجہ کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ اگر اس کیس میں اب بھی دلچسپی باقی ہے تو اپیل نئے سرے سے داخل کرنا ہوگی۔

خواجہ کو امریکی جاسوس سمجھ کر مار ڈالا گیا۔ اغوا کرنے والوں نے ان کی رہائی کے بدلے ان افغان طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ کی ہمدردیاں عسکریت پسندوں کے ساتھ تھیں اور خواجہ کا دعویٰ تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کو جانتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG